زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 323
زریں ہدایات (برائے طلباء) 323 جلد سوم لڑکوں کو لیکچر سکھایا کریں تو اس میں کیا حرج ہے۔البتہ ہر لفظ کا تلفظ صحیح بتایا جائے اور پھر وہ زبانی تقریر کریں تا کہ تقریر کرنے کا ملکہ بڑھے۔ہاں اگر کسی طالب علم میں خود بخود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی قابلیت رکھی گئی ہو تو پھر اسے اس طریق پر کام کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ اس کے لئے نقصان دہ ہوگا۔یہ طریق ان لڑکوں کے لئے ہے جن میں قابلیت نہیں ہوتی۔ان میں قابلیت پیدا کرنے کے لئے اس طریق پر چلنا ضروری ہے جو ابھی میں نے بتایا ہے۔اس کے بعد میں ان اساتذہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے لڑکوں میں تبلیغ کا جوش پیدا کیا۔میرے پاس ماسٹر عبد الواحد صاحب رپورٹیں بھجواتے رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں لڑکوں نے نہایت استقلال سے کام کیا ہے۔جس طریق پر پہلے کام کیا جاتا تھا اسے دیکھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ چھ ماہ کے بعد یہ جوش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔مگر استقلال اور ہمت سے لڑکوں نے ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کے سلسلہ کو جاری رکھا۔مجھے اگر چہ ان کی اس وقت کی تقریریں پسند نہیں آئیں مگر میں ان کے تبلیغ کے عمل سے بہت خوش ہوں اور یہی مومن کی علامت ہوتی ہے کہ اس کا عمل اس کے قول سے بڑھ کر ہوتا ہے۔اور اس کی نیست اس کے عمل سے بھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔چھ دن کے بعد بچوں کو جمعہ کی ایک چھٹی ملتی ہے۔طبعاً ہر شخص چاہتا ہے کہ چھٹی کے دن آرام کرے مگر اس چھٹی کے دن تبلیغ کے لئے جانا، تقریریں کرنا اور گالیاں سننا بڑا کام ہے۔بچوں میں جوش زیادہ ہوتا ہے۔لیکن ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر رہنا کہ گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو یہ ان کے لئے کوئی تھوڑا سا مجاہدہ نہیں کتنی دفعہ ان کے دلوں میں گدگدی اٹھتی ہوگی کہ گالیاں دینے والوں کا گلا دبا دیں مگر ان کا ضبط نفس قابل تعریف ہے۔میں نے ہائی سکول | والوں کو پہلے بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر کہتا ہوں کہ دین کی تبلیغ صرف عربی مدرسہ والوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ ان کا بھی فرض ہے۔وہ ان کے نمونہ کو ہی دیکھتے ہوئے