زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 317

زریں ہدایات (برائے طلباء) 317 جلد سوم ہے۔سمجھ میں نہیں آتا ایسے لڑکوں سے جو شعر پڑھنا نہیں جانتے شعر پڑھوانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔میں اگر سکول کا ہیڈ ماسٹر ہوتا تو آرڈر دے دیتا کہ اگر اس قسم کے لڑکوں کو میں نے کبھی شعر پڑھتے سنا تو ان پر جرمانہ کر دوں گا۔کوئی وجہ نہیں کہ جسے شعر سے کچھ مس نہیں اور جسے پتہ ہی نہیں کہ الفاظ کا صحیح تلفظ کیا ہے اس سے مجلس میں اشعار پڑھائے جائیں۔اشعار پڑھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہر شخص کو نہیں بنایا بلکہ خاص خاص طبیعتوں میں یہ ملکہ رکھا ہے۔کیا ضرورت ہے کہ اگر مجھے معماری نہیں آتی تو میں آپ ہی آپ ایک عمارت کھڑی کرنا شروع کر دوں۔میرا فرض ہے کہ میں معمار سے کہوں۔اسی طرح خدا نے ہر شخص کو کھانا پکانے کی قابلیت نہیں دی اور جسے کھانا پکانا نہ آ تا ہوکس قدر غلطی ہوگی اگر وہ پکانے بیٹھ جائے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے ایک ہی دفعہ میں نے روٹی پکائی اور اس کے چھ گوشے نکل گئے۔اس کے بعد میں نے کبھی روٹی نہیں پکائی میں نے سمجھ لیا خدا نے مجھے اس کام کے لئے نہیں بنایا۔اسی طرح جسے اشعار سے کوئی لگاؤ نہیں، جسے زبان کا کچھ پتہ نہیں وہ جب شعر نہیں پڑھ سکتا تو اسے مجلس میں شعر نہیں پڑھنے دینے چاہئیں۔ہمارا بہت ضروری فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زبان کا صحیح استعمال سیکھیں۔اور جب تک ہم اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے اُس وقت تک کبھی اس صحیح مقام پر نہیں پہنچ سکتے جو تبلیغ کے مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے جو دعائیں فرمائیں وہ بہت سی ہوں گی وہ ہمیشہ اپنی ترقیات کے لئے دعائیں کرتے ہوں گے۔مگر جب نبوت ملی تو جن باتوں کے لئے انہوں نے اُس وقت دعا کی ان میں سے ایک یہ بھی تھی وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي 1 الخ۔اے خدا! میری زبان کی گرہیں کھول دے اور اسے صاف اور شستہ بنادے۔کیونکہ بغیر اس کے مبلغ کا کام نہیں ہو سکتا۔غیر زبانوں کو جانے دو مبلغ کو وہ زبان تو کم از کم آنی چاہئے جو اس کی مادری زبان ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو کتا ہیں اردو میں ہیں ان کے متعلق میں نے غیر احمدیوں اور مخالفوں سے سنا ہے کہ مرزا صاحب کی