زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 316

زریں ہدایات (برائے طلباء) 316 جلد سوم حق بجانب ہوں گے کہ یہ ان لوگوں کی سستی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔اور جس شخص پر ہمارے متعلق یہ اثر پڑے گا کہ ہم سستی اور غفلت کا شکار ہیں وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ ہماری باتوں پر غور نہیں کرے گا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ لڑکے اپنی تقریر میں حروف کو ان کے مخارج کے لحاظ سے پورے طور پر ادا نہ کر سکیں۔مثلاً ”ق“ ہے۔ہو سکتا ہے کہ لڑکے اس کا صحیح تلفظ ادا نہ کریں۔اگر چه مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں کو یہ بھی آنا چاہئے مگر ق“ اگر بڑا ادا نہ ہو سکے تو چھوٹا ہی سہی۔لیکن اپنی زبان کے روز مرہ کے الفاظ کو بھی ان کی اصل شکل سے بگاڑ کر کہنا اور ان کے بولنے میں بھی غلطیاں کرنا ، سننے والوں کے دلوں میں یہ بات یقینی طور پر بٹھا دیتا ہے کہ یہ لوگ صحیح طور پر اپنے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔نظموں کے متعلق میں نے بارہا کہا ہے کہ ان کا جلسوں میں پڑھنا کوئی ثواب کا موجب نہیں۔میرا کام ہی ایسا ہے جس کے لئے مجھے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر آج تک میں نے کسی کتاب میں کسی بزرگ کا یہ قول نہیں پڑھا کہ اگر کسی جلسہ میں تعلم نہ تو پڑھی جائے تو وہاں فرشتے نازل نہیں ہوتے۔نظم ایک غیر طبعی چیز ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے شک نظمیں کہی ہیں مگر اس لئے کہ تا لوگوں پر ان کے ذریعہ اثر ہو۔لیکن اگر اثر کی بجائے الٹا یہ نتیجہ پیدا ہو کہ لوگوں کو نفرت ہو جائے تو پھر نظموں کے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔آج کی نظمیں جس رنگ میں پڑھی گئی ہیں انہیں سن کر میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان منتظمین کی دعوت کروں جس میں گندھک کا پلاؤ، کونین کا زردہ اور ایلوے کی کھیر پکا کر ان کے آگے رکھوں اور دیکھوں کہ وہ اسے کیسے شوق سے کھاتے ہیں۔اگر وہ شوق سے کھا لیں تو میں سمجھوں گا اس طرح پڑھی جانے والی نظمیں سن کر بھی وہ خوش ہو سکتے ہیں۔ایک نظم پڑھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ شعر پڑھ کر سنائے مگر اس نے اس طرح ان شعروں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور ایسا غلط تلفظ ادا کیا کہ مجھے پہلے سمجھ میں ہی نہ آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر پڑھا جا رہا