زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 306
زریں ہدایات (برائے طلباء) 306 جلد سوم وکیل کے دماغ میں بھی ہر وقت ادویات یا قانونی باتیں نہیں رہ سکتیں۔عام حالات میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی جاہل زمیندار۔جب وہ باہم دوستوں سے ملتے ہیں تو اپنے علم کی باتیں اُس وقت ان کے ذہن میں نہیں ہوتیں بلکہ وہ عام لوگوں والی ہی گفتگو کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہ سناؤ خیریت ہے؟ بال بچے راضی ہیں؟ اتنی مدت کہاں رہے؟ اُس وقت ان کی ساری گفتگو میں ایک بات بھی خاص علم کی نہیں ہوگی۔اُس وقت وہ ایسے ہی جاہل ہوں گے جیسے ایک ان پڑھ زمیندار۔اور دیکھو کامل سے کامل آدمی بھی اپنے بیوی بچوں میں عالمانہ گفتگو نہیں کرتا بلکہ اس کے بھی وہی جذبات اور وہی افکار ہوتے ہیں جو ایک جاہل کے دماغ میں۔ان میں مطلقاً کوئی فرق نہیں ہوگا۔پس اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عالم سے عالم آدمی کا بھی بہت ہی قلیل وقت علم کے ماتحت صرف ہوتا ہے۔پس عالم اسے نہیں کہنا چاہئے جو کتابیں پڑھ لے بلکہ عالم وہ ہے جو اپنے علم کو اپنے سامنے اس طرح حاضر کرتا رہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ گھڑیاں علم میں گزریں۔میرے خیال میں ننانوے فیصدی اور ایسا بھی میں انسانیت کے ادب کے خیال سے کہہ رہا ہوں اور نہ سو فیصدی لوگ ہی ایسے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ وہ عالم ہیں مگر ان کے اکثر اوقات جہالت میں گزرتے ہیں۔پس عالم وہ نہیں جو کتابیں پڑھ لے بلکہ وہ ہے جس کے اندر علم داخل ہو جائے۔قرآن کریم نے علم کا نام صبغت اللہ رکھا ہے 7 اور رنگ ایسی چیز ہے جو ہر ذرہ کو اپنے رنگ میں رنگین کر لیتی ہے۔اسی لئے اسلام نے علم کا نام تصبیح رکھا ہے۔رنگ ہر جگہ نمایاں نظر آتا ہے اور کسی وقت بھی جدا نہیں ہوتا۔تو شریعت نے علم الہی کا نام اللہ کا رنگ رکھا ہے۔قرآن شریف نے فرمایا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا 8 بڑے بڑے فلاسفر جو خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرا کرتے اس لئے وہ عالم نہیں کیونکہ وہ علم سے کام نہیں لیتے۔ان کا علم ان کے کھانے پینے، پہننے اور بیوی بچوں میں رہنے غرضیکہ تمام حالات پر حاوی نہیں ہوتا۔ان کا علم ایک پیشہ کے طور پر ہوتا ہے۔جیسے سپہ گری کا پیشہ ہے۔جب لڑائی کا وقت آئے سپاہی | تلوار اٹھا لیتا ہے مگر بعد میں اسے علیحدہ کر کے رکھ دیتا ہے۔اسی طرح ان لوگوں نے بھی علم کو بطور پیشہ اختیار کیا ہوتا ہے۔علم رنگ بن کر ان پر نہیں چڑھا ہوتا بلکہ اس کی حیثیت ایک کپڑے