زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 305
زریں ہدایات (برائے طلباء) 305 جلد سوم پس طلباء کو ایک تو میری نصیحت یہ ہے کہ بلند ارادے رکھو اور یہ خیال مت کرو کہ اسلام | امنگوں سے روکتا ہے اسلام صرف منافقت یا دوسروں سے حسد سے روکتا ہے۔وگرنہ سب سے بلند ارادوں کا حق صرف مسلمان کو ہی ہے مگر جب ساتھ کوشش بھی ہو۔صوفیاء کی بعض کتب لوگوں کو دھوکا لگ جاتا ہے۔کچھ دن ہوئے ایک سماٹری طالب علم نے تصوف کی ایک کتاب کے متعلق مجھے کہا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا اس میں کیا لکھا ہے۔یہی بار بار آتا ہے کوئی نیت مت کر کوئی ارادہ مت کر۔جہاں خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہیں کھڑارہ۔لیکن یہ دراصل اس کی اپنی کوتاہ نہی تھی وگرنہ میں نے خود یہ کتاب پڑھی ہے۔مجھے تو وہ بہت پیاری معلوم ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے پڑھائی تھی اور فرمایا تھا میرے نزدیک جو کتابیں بہترین ہیں وہ پڑھا دیتا ہوں۔اور قرآن ، بخاری اور فتوح الغیب پڑھائی تھی۔اور پڑھایا ایسی حالت میں کہ مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں کرنے دیتے تھے اور فرماتے تھے تم یہ پڑھ لو۔باقی علم خدا خود سکھاتا ہے۔عام لوگوں کو تو یہ کتابیں شاید جہالت سے نکالنے کے لئے بھی کافی نہ ہوں۔اور حقیقت بھی یہی ہے که انسان خواہ جتنا بھی چاہے علم پڑھ جائے مگر خدا کے فضل کے بغیر وہ جہالت سے نہیں نکل سکتا۔علم خدا ہی جسے چاہے سکھاتا ہے اس لئے میں یہ نصیحت بھی طلباء کے لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس دھوکا میں نہ پڑیں کہ انسان علم پڑھنے سے عالم بن جاتا ہے۔ایک محقق نے کیا ہی اچھی بات پیش کی ہے کہ تم ہمیشہ کے لئے دنیا کو دھوکا نہیں دے سکتے۔اور ایک ہی وقت میں ساری دنیا کو دھوکا میں نہیں رکھ سکتے۔اسی طرح اگر چہ یہ بات اس کے الٹ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ کوئی علم ایسا نہیں جو انسان کی ساری عمر اور اس کے سارے حالات پر حاوی ہو سکے۔علم کے معنی خزانہ کے ہیں یعنی وہ ہمارے پاس ہے اور جب چاہیں اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یا وہ ایک خادم کی طرح ہے کہ اسے آواز دیں اور وہ حاضر ہو جائے۔وگرنہ وہ ناک، کان، آنکھ کی طرح ہر وقت ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔بعض لوگ طب یا فلسفہ بہت کوشش سے پڑھتے ہیں مگر پھر بھی ایسے اوقات ان پر آتے ہیں کہ ان کے ذہن میں اس علم کی کوئی بھی بات نہیں ہوتی۔ہاں جس وقت انہیں ضرورت ہو اور وہ اسے یاد کریں تو وہ حاضر ہو جاتا ہے۔کسی بہترین ڈاکٹر یا