زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 26

زریں ہدایات (برائے طلباء) 26 جلد سوم ہے جس کا فائدہ اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔پس ہم اگر ان کے احسانات کا بدلہ دے سکتے ہیں اور فرض ہے کہ ہر مسلمان دے تو ہماری جماعت پر فرض ہے کہ جب اس نے دنیاوی طور پر ان کے ذریعہ سے علوم سیکھے ہیں تو ان کو دینی علوم سکھائے۔اور اگر انہوں نے پہاڑوں اور دریاؤں کے نام اسے بتائے ہیں تو ہم انہیں خدا اور اس کے رسول کا نام بتائیں کیونکہ ان کا احسان مقتضی ہے اس بات کا کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کے ذریعہ دنیاوی علوم | حاصل کئے ہیں وہ اس سے بڑھ کر بدلہ دیں۔اور وہ سوائے دین کے ہو نہیں سکتا۔پھر ایسے موقع پر مفتی صاحب کو ایڈریس دینا جبکہ وہ ولایت تبلیغ کے لئے جارہے ہیں اور خود انگریزی زبان سیکھنا اس بات کو بڑے زور سے چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو عملی طور پر بھی ایڈریس دینے والے ثابت کرو اور بتادو کہ اہل یورپ نے جو ہم پر احسان کیا تھا اسے ہم اتارنے کے لئے تیار ہیں۔اس وقت یورپ کے لوگوں کو ایسے علماء تو دین اسلام سکھا نہیں سکتے جو خود انگریزی نہیں جانتے۔ان کی بجائے اگر کوئی گروہ آسانی کے ساتھ اسلام سکھا سکتا ہے تو وہ انگریزی خوانوں کا گروہ ہے کیونکہ دنیا میں جس کثرت کے ساتھ انگریزی دان لوگ ہیں اور کسی زبان کے نہیں ہیں۔اس لئے اگر ہمارے انگریزی خواں اپنی زندگیاں اس کام کے لئے وقف کر دیں تو ہم انگریزی کے ذریعہ قریباً نصف دنیا پر تبلیغ کر سکتے ہیں لیکن یہ کام اُس وقت تک ہو نہیں سکتا جب تک کہ بہت سے مبلغ اس کام کے لئے یورپ میں نہ جائیں۔ایک آدمی جا کر کیا کر سکتا۔وہاں تو ہر مقام اور ہر شہر میں مبلغ ہونا چاہئے۔کیا ہم قادیان میں بیٹھ کر سارے پنجاب میں تبلیغ کر سکتے ہیں؟ نہیں بلکہ گاؤں یہ گاؤں اور شہر بہ شہر جانے کی ضرورت ہے۔اسی طرح وہاں بھی ضرورت ہے کہ ہر جگہ مبلغ ہوں اس لئے جب تک بہت لوگ اس کام کے لئے تیار نہ ہوں اُس وقت تک یہ کام ہو نہیں سکتا۔جن لوگوں کی طرف سے اس وقت ایڈریس پڑھا گیا ہے اگر انہوں نے سچے دل سے پڑھا ہے اور مجھے یقین ہے کہ بچے دل سے پڑھا ہے تو میں ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ تعلیم سے فارغ ہو کر اپنی آئندہ زندگی کے لئے کام سوچتے وقت اپنا ایک بہت بڑا فرض بھی یادرکھیں اور وہ دین کی ہے