زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 301

زریں ہدایات (برائے طلباء) 301 جلد سوم یا درکھنا چاہئے انسان کو بڑا بنانے کے لئے ہمیشہ ناممکن چیزیں ہی اس کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔نپولین نے کہا تھا ناممکن کے معنے مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکے اگر چہ میں ہمیشہ سے یہ لفظ سنتا آیا ہوں۔یہ سائیکالوجی کا اصول ہے کہ ممکنات کے حصول کے لئے انسان جب تک ناممکنات میں نہیں پڑتا وہ کبھی کامیاب بھی نہیں ہو سکتا۔انسان کا دماغ ایک چھلنی کی طرح ہے اس میں ساری چیزیں نہیں ٹھہر سکتیں۔جو آتی ہیں ان میں سے ایک قلیل حصہ اس میں ٹھہرتا ہے باقی بہت سا نکل جاتا ہے۔ہر لحظہ انسان بیسیوں چیزیں دیکھتا ہے۔اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان ایک سیکنڈ میں صرف ہیں چیزیں ہی دیکھتا ہے تو ایک منٹ میں وہ بارہ سو دیکھے گا۔لیکن کیا وہ سب اسے یادرہ جاتی ہیں؟ یا صرف تین چار ہی رہیں گی۔کیونکہ دماغ کی چھلنی باقی سب کو نیچے پھینک دے گی۔تو جب تک انسان بہت بڑا ہاتھ نہیں مارتا وہ کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اگر کوئی مچھلی پکڑنے والا یہ خیال کرلے کہ میں صرف موٹی موٹی مچھلیاں پکڑوں گا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔وہ جال پھینک دیتا ہے اور سب کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے، چھوٹی چھوٹی خود ہی جال سے نکل جاتی ہیں اور بڑی ہاتھ آ جاتی ہیں۔بعینہ یہی حالت ہر انسان کی ہے۔اس کے سامنے اگر چھوٹا مقصد ہو تو وہ اس سے بھی نیچے رہ جاتا ہے۔لیکن اگر بڑا اور بلند ہو تو اس کے مطابق ہی وہ ترقی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔تو ترقیات کی خواہش اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔پھر سوال ہوتا ہے وہ کیا بات ہے جس سے اسلام روکتا ہے؟ اس انکسار کا کیا مطلب ہے جو اسلام سکھاتا ہے؟ اس حرص و آز سے بچنے کے کیا معنی ہیں جسے اسلام بر اقرار دیتا ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ حرص و آز اور لا طائل 6 امنگوں اور ترقی والی امنگوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اسلام امنگ سے نہیں بلکہ غلط امنگ سے روکتا ہے۔اسلام واہمہ سے منع نہیں کرتا بلکہ غلط واہمہ سے منع کرتا ہے۔واہمہ پر ہی تو انسانی ترقی کی بنیاد ہے۔اگر انسان کے اندر سے اسے نکال دیں تو وہ مردار رہ جاتا ہے۔یہ سب کرشمے قوت واہمہ ہی کی پرواز کا نتیجہ ہیں۔اس کی سے روکنا ایسا ہی ہے جیسے ایک پرندے کے پر کاٹ دیئے جائیں۔اسلام پرواز سے نہیں روکتا