زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 263

زریں ہدایات (برائے طلباء) 263 جلد سوم ہے خدا کے نبیوں کے کلام اسی وجہ سے تکلف سے عاری ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی عبارت کو پڑھو کس طرح دل پر اثر کرتی ہے۔اس کے مقابلہ میں حریری اور دوسرے مصنفوں کی عبارتیں پڑھو۔بظاہر ان کی بندشیں کیسی چست اور دلکش ہوتی ہیں۔اگر اسی کا نام بلاغت اور فصاحت ہے تو قرآن کریم ان کے مقابلہ میں (نعوذ باللہ ) گرا ہوا معلوم ہوگا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی بلاغت اور ہے۔جنہوں نے ظاہری طور پر قرآن کا مقابلہ ان عبارتوں سے کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ قرآن کی بلاغت ان کے مقابلہ میں بیچ ہے۔مگر بلاغت تکلف اور تصنع کا نام نہیں۔قرآن کریم کی بلاغت اور فصاحت کے متعلق تو کہنا ہی کیا ہے یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے نبیوں کے کلام میں بھی بلاغت اور فصاحت اس ہمدردی اور خیر خواہی میں مخفی ہوتی ہے جس کی خاطر دنیا کے لئے وہ کلام کیا جاتا ہے۔قرآن کریم کے سادہ الفاظ ہیں اور وہی الفاظ ہیں جو روزمرہ کی بول چال میں بولے جاتے ہیں۔مگر جب وہی الفاظ قرآن کریم کی بندش میں آتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی آسمان سے اترے ہیں۔الفاظ تو پرانے ہی ہوتے ہیں مگر ان کی بندش جدید ہوتی۔جو قلوب پر خاص اثر کرنے والی ہوتی ہے۔کیونکہ اس بندش کے اندر خالق ارض و سما کی یہ خواہش پنہاں ہوتی ہے کہ جس غرض کے لئے بندوں کو پیدا کیا گیا ہے وہ پوری ہو اور اسے حاصل کر لیں۔اس کی محبت، اس کی شفقت، اس کی ذرہ نوازی ہمارے لئے ہر لفظ کو نیا اور ہر بندش کو جدید بنا دیتی ہے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ درد اور سوز پیدا کریں اور ایسے رنگ میں دنیا کے سامنے آئیں کہ دنیا محسوس کرے ہمارے قلوب میں اس کے لئے درد اور سوز ہے۔ہمارے درد اور سوز کو دلوں میں نہیں چھپا رہنا چاہئے بلکہ جس طرح دیوانہ اپنے کپڑے پھاڑ کر نگا ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے کلام میں سے درد اور سوز ننگا ہو کر ظاہر ہونا چاہئے۔اس پر کہنے والے کہیں گے کہ سی نگی عبارتیں ہیں، ان میں فصاحت و بلاغت نہیں، مگر یا درکھو کام انہیں سے ہوگا۔ہاں عبارت صاف اور زبان کے محاورہ کے مطابق ہو۔کیونکہ جب تک ہم زبانوں کے محاورہ کی پابندی نہ کریں ہمارے مطالب لوگوں کے لئے غلط مفہوم پیدا کر دیں گے اور ان کے لئے ہمارے مفہوم