زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 262

زریں ہدایات (برائے طلباء) 262 جلد سوم اور خالی ہوں گے جیسے اس مجلس میں آنے کے وقت تھے۔لیکن سادہ کلام جس میں دردمند دل اپنے دردمندانہ خیالات کا اظہار کر رہا ہو قلوب پر ایسا تصرف جمائے گا کہ گو سننے والے بظاہر اس کی طرف سے بے توجہ ہی نظر آئیں اور ممکن ہے اس پر اعتراض بھی کریں مگر ان کے قلوب پر ایسا گہرا اثر پڑے گا کہ جب وہ اس مجلس سے اٹھیں گے جس میں ان کے کان دلچسپ اور دلکش باتیں سننے کے مشتاق تھے مگر ان کا یہ اشتیاق پورا نہ ہوا تو ان کا دل آہستہ آہستہ محسوس کرنے لگے گا کہ اس مجلس میں شامل ہونا بے فائدہ نہ تھا۔اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے یہ طاقت دے که سادہ کلمات سے دلوں کو اور لطیف اور دلکش کلام سے کانوں کو فتح کیا جا سکے تو بڑی خوشی کی بات ہے۔لیکن اگر ایک شخص کو ایک ہی چیز میسر آسکتی ہے تو سادگی کو اختیار کرنا چاہئے کیونکہ ہمارا کام دلوں کو فتح کرنا ہے نہ کہ کانوں کے لئے دلکشی کے سامان مہیا کرنا۔اس وقت ایڈریس کے جواب کی ذمہ داری بھی ایک ایسے لڑکے کے سپرد کی گئی ہے جس کے سپرد چار پانچ سال سے ایڈریس لکھنے اور پڑھنے کا کام رہا ہے۔اور میں کہ سکتا ہوں اس وقت جو جواب دیا گیا ہے وہ سادہ طور پر اپنے دلی جذبات کا اظہار ہے اور میں اس جواب کو پہلے ایڈریسوں پر ہزاروں درجے زیادہ وقعت دیتا ہوں۔جب تک ہمارے دل میں یہ بات راسخ نہ ہو جائے گی کہ ہمارا کام دلوں کو فتح کرتا ہے اُس وقت تک ہماری تقریریں اور تحریریں اُس تیر انداز کی طرح ہوں گی جس کے تیر چاروں گوشوں میں تو پڑتے تھے لیکن اگر نہیں پڑتے تھے تو اس جگہ جہاں وہ مارنا چاہتا تھا۔اس کے تیر مشرق و مغرب، شمال و جنوب ہر طرف پڑتے تھے مگر نشانہ خالی تھا۔بہت لوگ ہیں جو دوسروں کی تحریروں اور تقریروں کی نقل کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں اگر ہم اس طرح کے لکھنے اور بولنے والے ہو جائیں تو دنیا کو فتح کرلیں۔حالانکہ تصنیف اور تقریر نے دنیا کو بھی فتح نہیں کیا۔اس کے لئے سوز ، گداز اور درد کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سوز کی جو بناوٹوں سے عاری ہو، اس گداز کی جو تکلف سے بے گا نہ ہو، اور اس درد کی جو تصنع سے پاک ہو، ایک ماتم کرتا ہوا دل، ایک چلاتا ہوا دل، ایک سوز سے گداز ہوا ہوا دل جب کوئی بات پیش کرتا ہے تو پتھر کا دل رکھنے والے انسانوں میں بھی رقت پیدا کر دیتا ہے۔