زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 248

زریں ہدایات (برائے طلباء) 248 جلد سوم وقت چاہئے اور انسان بچپن میں عام طور پر کھیلتا کودتا ہی نظر آتا ہے۔لیکن باوجود اس کھیل کود کے وہ حواس خمسہ ظاہری سے کام لیتا ہے۔مثلاً وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے، محسوس بھی کرتا ہے، مزہ بھی چکھتا ہے تو جب مین بچپن میں اس کے ظاہری حواس کام کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ کہا جاسکے کہ اس کے حواس باطنی کام نہ کرتے ہوں گے۔تو جب یہ ظاہر ہے کہ بچپن ہی سے ایک انسان کے حواس ظاہری و باطنی کام کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بچپن ہی سے اس میں Sincerity یعنی راستی اور خلوص نہ پیدا کیا جائے۔پس میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اس Sincerity کو پیدا کرو۔Sincerity یہ نہیں کہتی کہ انسان ہنسی نہ کرے، بولے نہیں اور بالکل چپ سادھ کر بیٹھ جائے بلکہ Sincerity کے یہ معنی ہیں کہ جب بھی کام کرو، جو بھی کام کرو نہایت خلوص کے ساتھ کرو اور راستی کے ساتھ کرو اور پوری توجہ کے ساتھ کرو خواہ تم مذہبی کام کرو، خواہ تم کوئی تقریر کرو، خواہ تم روزانہ زندگی کا کوئی کام کرو۔غرضیکہ جو کام کروا سے Sincerity کے ساتھ کرو اور تمام تر توجہ کے ساتھ کرو۔ماسوا ازیں اگر ایک بچہ کے روزانہ مشاغل پر غور کیا جائے تو وہاں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ باوجود طفولیت کی بے پرواہی کے وہاں بھی ایک قسم کی Sincerity کام کر رہی ہے۔چنانچہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ ایک بچہ جب کبھی بھی کوئی کام کرتا ہے خواہ وہ کام کھیل ہی کا کیوں نہ ہو تو پوری توجہ اور محنت سے کرتا ہے اور راستی اور خلوص کے ساتھ کرتا ہے اور یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ یہ اچھا کام ہے۔اور یہی Sincerity ہے۔تو جبکہ ایک بچہ میں یہ Sincerity پائی جاتی ہے تو بڑوں میں ان سے زیادہ یہ ہونی چاہئے۔پس میں یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ Sincerity پیدا کرو اور ہر کام میں اس کو استعمال کرو۔زندگی کے دوسرے شعبوں کے متعلق بھی میں کہتا ہوں کہ ان میں بھی اس کو پیدا کرو لیکن اس وقت آپ کی ایسوی ایشن کے مفاد کو مدنظر رکھ کر یہ بات نصیحتا کہتا ہوں کہ اگر تم اس کام کو نہ کرتے تو اور بات تھی۔لیکن اب جب تم اسے کر رہے ہو تو اسے Sincerity سے کرو۔چوتھی نصیحت میں تبلیغ کے متعلق کرتا ہوں۔میں نے اس کے متعلق آج صبح بھی اور کل بھی بیان کیا تھا کہ تبلیغی کی طرف سے ہمارے نو جوانوں کو بالخصوص کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہئے۔