زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 18

زریں ہدایات (برائے طلباء) 18 جلد سوم امت میں سے کسی میں اتنی طاقت نہ تھی کہ نبوت کا مستحق ہو سکتا۔یہ عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں کو چاہئے کہ شرم کے مارے پسینہ پسینہ ہو جا ئیں اور روئیں کہ ہم سب سے بدتر امت قرار دیئے الله گئے ہیں۔کیونکہ پہلی امتوں کو نبوت کا انعام مل سکتا تھا لیکن ہم کو اس سے محروم کر دیا گیا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا نبی ایسا ہے کہ وہ خود پکڑ کر نبوت کے درجہ پر کھڑا کرا دیتا ہے۔حضرت موسیٰ" کے امتی نبی نہ تھے کیونکہ جب ان میں سے کوئی نبوت کے درجہ پر کھڑا کیا جاتا تو وہ امتی ہونے کے مقام سے اعلیٰ ہو جاتا تھا مگر آنحضرت ﷺ کا وہ درجہ ہے کہ آپ کے ذریعہ جب کوئی نبی بن جائے تو بھی وہ آپ کا غلام ہی رہتا ہے۔پس ہمارا یہ دعوئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہ صرف یہ کیا ہے کہ آپ پر نبوت ختم نہیں ہو گئی بلکہ آپ خود اپنے امتی کو نبوت کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں۔اب بتاؤ یہ وہ مقام ہے جس کی نسبت کہا گیا کہ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یا وہ کہ آپ کی امت سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔تو اس طرح سب مسائل کو دیکھو۔جو بات ہم پیش کرتے ہیں اس سے رسول کریم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے یا اس سے جو وہ پیش کرتے ہیں۔ہر ایک عقلمند اور دانا اس طریق کو سن کر یہی کہے گا کہ جو عقیدہ جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے اسی سے آنحضرت ﷺ کی عظمت اور شان ظاہر ہوتی ہے۔پس اگر تم اس طرح دینی مسائل کو لوگوں کے سامنے پیش کرو تو کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور تم ہی کامیاب ہو گے۔“ الفضل 29 اگست 1916ء) 1 متی باب 5 آیت 17 18 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ 1887ء ( چند الفاظ کے فرق کے ساتھ ) 2 تذكره صفحہ 152 تا 154 ایڈیشن چہارم 2004 ء 3 آل عمران : 32 4 ابن ماجه كتاب الزهد باب ذكر الشفاعۃ صفحہ 628، 629 حدیث نمبر 4308 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الأولى