زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 17
زریں ہدایات (برائے طلباء) 17 جلد سوم کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔حالانکہ یہ فخر نہیں بلکہ ذلت ہے۔کیا کبھی تم نے اس بات پر فخر کیا ہے کہ ہمارا سکول ایسا ہے کہ کبھی اس کے لڑکے فرسٹ ڈویژن میں پاس نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ تھرڈ ڈویژن میں ہی پاس ہوتے ہیں؟ کبھی نہیں۔کیونکہ یہ فخر کی بات نہیں بلکہ ذلت اور رسوائی کی بات ہے۔مگر مسلمانوں کو یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ممبروں پر کھڑے ہو کر روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کی ایسی شان ہے کہ اس کی امت میں سے نبوت کا درجہ کسی کو نہیں مل سکتا۔نبی ایک کامل فرد کو کہتے ہیں گویا ان کے خیال میں آنحضرت صلى الله ے کی امت میں کوئی کامل فرد نہیں ہوسکتا اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔ان مولویوں کی دوستی اسی قسم کی ہے جس طرح کسی انسان سے ریچھ کی تھی۔کہتے ہیں ایک ریچھ ایک انسان کا دوست تھا۔ایک دن جبکہ وہ شخص سویا ہوا تھا تو ریچھ اس کے منہ پر سے لکھیاں اڑاتا تھا۔ایک مکھی کو اڑا تا وہ پھر آ بیٹھتی۔جب دو تین دفعہ اسی طرح اس نے کیا تو ریچھ نے ایک پتھر کی سل اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری تا کہ مکھی کو ماردے۔اس طرح اس شخص کی جان الله بھی ہوا ہوگئی۔تو آجکل کے مولوی رسول کریم ﷺ کے ایسے ہی دوست ہیں۔بجائے اس کے کہ رسول کریم ﷺ کی شان اور عظمت کا اظہار کریں الٹا ہتک کرتے ہیں اور جس طرح وہ ریچھ پتھر مار کر خوش ہو گیا تھا کہ اب تو مکھی بیٹھے اسی طرح یہ نبوت کا دروازہ بند کر کے خوش ہوتے ہیں کہ اب کوئی اسے کھولے تو سہی اور کوئی نبی تو آئے۔مگر اس طرح انہوں نے گویا دوسرے لفظوں میں یہ مان لیا ہے کہ رسول کریم ہے جو سب سے بڑے استاد تھے ان کے شاگرد دوسروں۔نکھے اور کمزور ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ استاد ہی نکما ہے حالانکہ رسول کریم حیو فرماتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا 15۔کیا رسول کریم صلی اللہ اس بات پر فخر کریں گے کہ کوئی نبی مجھے اپنی امت میں نظر نہیں آتا؟ یہ تو کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔پس تم لوگوں کو یہ موٹی موٹی باتیں سمجھا سکتے ہو اور وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت موسی " تو یہ کہیں گے کہ گو میرے ذریعہ کوئی نبی نہیں ہوا مگر میری امت میں اور میرے شاگردوں میں ایسی قابلیت کے لوگ ضرور ہوئے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے نبی بنا دیا ہے مگر آنحضرت ﷺ کہیں گے کہ میری صل