زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 184
زریں ہدایات (برائے طلباء) 184 جلد سوم دیکھنا ، دیکھنے والے کے لیے حقیقی خوشی نہیں ہو سکتی۔بلکہ اگر ان میں حس ہو تو ان میں اور زیادہ احساس پیدا ہو جائے گا۔ایک پیاسا اگر کسی کو پانی پیتا دیکھے تو اس کی پیاس بجھ نہیں جائے گی بلکہ اور تیز ہوگی۔پس اگر یہ ایڈریس جو اس وقت پیش کیا گیا ہے اپنے مطالبات کے لحاظ سے صحیح ہے اور یہ جو اظہار خوشی کی گئی ہے حقیقی ہے تو اس سکول کے ہر مدرس اور ہر طالب علم یا ہر اس شخص کا جو کسی نہ کسی طرح اس کے ساتھ وابستہ ہے فرض ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔سکول کے طالب علم سکول کو چھوڑ کر انگلستان یا امریکہ میں تبلیغ کے لئے نہیں جاسکتے اور وہ تبلیغ بھی ایسی نہیں کر سکتے جو موثر ہو۔لیکن ایک چیز ہے جو خاص طالب علموں سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔یعنی یہ کہ وہ اپنی زندگی کے متعلق سمجھیں کہ اس کی بناء پر ہم نے آئندہ کام کرنا ہے۔اور اس وقت جو کچھ کریں گے وہ آئندہ زندگی کے لئے بیج ہوگا۔اگر بیچ میں سبزی پیدا کرنے ، تنومند درخت بنے اور سایہ دار درخت ہونے کی طاقت نہیں تو کوئی پانی اور کوئی کوشش اس میں یہ باتیں نہیں پیدا کر سکتی۔اسی طرح جس میں بچپن کے زمانہ سے دین کی خدمت کا بیج اور مادہ نہ ہو وہ بڑا ہو کر دین کی خاص خدمت نہیں کر سکتا۔اور کوئی کوشش اس سے دینی کام کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہاں نئی پیدائش اس سے کر سکتی ہے۔مگر وہ اس دنیا میں نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ اگلے زمانہ میں قبر، برزخ ، حشر اور دوزخ کے گزرنے کے بعد ہوتی ہے۔وہ بہت دور کی دنیا ہے۔اور خدا تعالیٰ جس کے نزدیک عرصہ اور مدت کی کوئی ہستی ہی نہیں وہ اسے خلود اور ابد آباد کہتا ہے۔وہاں نئی پیدائش ہوگی۔مگر اس دنیا میں نہیں ہوگی۔یہاں وہی کوشش کام آئے گی جو بچپن میں کی گئی ہے۔اور جس طرح جسمانی بناوٹ پیدائش کے بعد بدل نہیں سکتی بلکہ جو ماں کے پیٹ میں ہو گیا وہ ہو گیا اسی طرح بچپن کی پیدائش بڑے ہو کر بدل نہیں سکتی۔جو ہو گیا سو ہو گیا۔پالش کسی قدر چیز کو بدل دیتا ہے مگر اصل کو نہیں بدل سکتا۔اسی طرح صابن میل کو تو دور کر سکتا ہے مگر ایک حبشی کو گورا نہیں بنا سکتا۔پس جو تربیت بچپن میں انسان کی ہوتی ہے وہ ایسا بیج ہوتا ہے کہ اگر اس میں ترقی کی طاقت نہ ہو تو انسان کو ئی عظیم الشان تغیر نہیں پیدا کر سکتا۔یہ ایک بار یک بات ہے اور اس کا اظہار مفید نہیں کیونکہ طلباء اس کو سمجھ نہیں