زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 161
زریں ہدایات (برائے طلباء) 161 دی تو میں نے اپنے خیالات کا اظہار تحریری طور پر کر دیا۔طالب علم : ہجرت کی جو تحریک ہوئی تھی اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ جلد سوم حضرت: میں نے ہجرت کے موقع پر گورنمنٹ کو لکھا تھا کہ وہ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔اگر وہ روکے گی تو پھر وہ ملک میں رہ کر بھی جنگ کر سکتے ہیں۔مگر جو لوگ ہجرت کر کے گئے نہ تو وہ کسی اصول اور قانون کو مد نظر رکھ کر گئے اور نہ کسی کی سیادت میں گئے۔ایک بے اصول جوش کے ماتحت یہ کام کیا گیا جس کا نقصان بہت زیادہ ہوا۔سرحد والے اپنی جائیدادیں نہایت ہی نقصان کے ساتھ بیچ کر چلے گئے اور آگے کوئی خبر گیراں نہ ہوا۔جس کا نتیجہ بے چینی ہوا اور تکالیف میں مبتلا ہو کر نا کام واپس ہوئے۔اور اس تحریک کی ناکامی نے اس کو بے اثر کر دیا۔اگر یہ تحریک صحیح اصول پر آرگنائزڈ (Organized) ہوتی تو یقیناً مؤثر ہوتی۔عبد الحکیم : قوم کی قوم تو ہجرت نہیں کر سکتی۔کانٹیٹیوشنل (Constitutional) طریق پر آپ سے متفق ہوں۔حضرت : میں اس حد تک موافق ہوں جو لاء (Law) کے خلاف نہ ہو ورنہ انار کی (Anarchy) پیدا ہوگی اور اس سے سخت نقصان ہوگا۔جس وقت تک یہ احساس رہے کہ لاء (Law) کی تعمیل کرنا ہے اُس وقت تک امن قائم ہے اور امن کے ساتھ ہم ایسے قوانین کو جو نقصان رساں ہوں تبدیل کرا سکتے ہیں۔عبدالحکیم : اگر قانون ایمان کے خلاف ہو۔حضرت: اگر ایسی حالت پیدا ہو جائے تو ہمارا یہی ایمان ہے کہ ملک سے باہر چلے جانا چاہئے۔اگر اس کو تبدیل نہیں کراسکتے پھر نکل جانے میں اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہ کھانے کو ملے گا یا نہیں۔میں تو جماعت میں اسلام کے لئے ایک غیرت کی عملی سپرٹ (Spirit) پیدا کرتا ہوں۔میری بیوی کا بھائی آیا، میں اس کے لئے شوق سے منتظر تھا۔دروازہ کھول کر اسے دیکھا کہ اس نے ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔مجھے اس سے رنج ہوا کہ اس نے کیوں پہنی۔تین دن تک میں اس