زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 158

زریں ہدایات (برائے طلباء) 158 جلد سوم عبد الحکیم : سارے قرآن میں یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی رسول آئے گا۔حضرت: یہ بحث تو الگ رہی کہ ذکر ہے یا نہیں۔لیکن فرض کرو کہ ایک شخص کا خیال ہے کہ رسول آئے گا تو اس کو کیا کہو گے؟ عبد الحکیم : کیا وہ شریعت کو مکمل سمجھتا ہے؟ حضرت: ہاں وہ مکمل سمجھتا ہے اور باوجود اس کے وہ مانتا ہے کہ ایک رسول آیا ہے۔یہ خیال غلط ہے یا صحیح مگر وہ مانتا ہے تو اس رسول کا جو انکار کرے اس کو وہ کیا کہے اور اس کا کیا حق ہے؟ عبد الحکیم : ہاں اس کا حق ہے کہ وہ نہ ماننے والے کو کافر کہے۔حضرت : تو پھر معلوم ہوا کہ یہ سوال نہیں کہ کا فرکیوں کہتے ہو بلکہ سوال یہ ہے کہ کہاں لکھا ہے کہ رسول آئے گا۔“ اس پر حضرت اقدس نے سورۃ اعراف کا تیسرا رکوع نکال کر پڑھا اور سوال کیا کہ اس میں يبني ادم کا جو خطاب ہے، یہ کسی زمانہ کے لوگوں کے لئے ہے؟) پروفیسر عبد الحکیم : وہ جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے یا آئندہ آئیں گے۔حضرت : بہت اچھا اب آگے چلئے چوتھے رکوع میں فرماتا ہے يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ التى 1 اس میں کون لوگ مراد ہیں؟ پروفیسر عبد الحکیم : وہی جو موجود تھے یا جو آئندہ ہوں گے۔حضرت: پھر یہ آیت کیا ثابت کرتی ہے؟ پروفیسر عبد الحکیم : اس آیت سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء آئیں گے۔میں نے جب اس کو پڑھا تھا تو یہی سمجھا تھا کہ رسول آئیں گے۔حضرت: پھر قرآن مجید سے یہ تو ثابت ہے کہ رسول آئیں گے پھر جو شخص کسی رسول کو مانتا ہے کہ آ گیا ، کیا اس کو یہ حق نہیں کہ اس کے نہ ماننے والوں کو کافر کہے؟ پروفیسر عبد الحکیم : ہاں اس کا حق ہے۔وہی طالب علم : مگر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ قرآن مجید میں یہ معنی نہیں پڑھے۔