زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 152
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 152 جلد سوم مراد آپ سے نہیں تھی اور آپ ان میں شریک نہ تھے۔حضرت : یہاں تو اصول کا سوال ہے اور اصولاً اس کو حل کرنا چاہئے۔میں پوچھتا ہوں کہ کسی وجہ سے کسی قوم نے حملہ کر کے دوسری کو فتح کر لیا تو کیا آپ کے نزدیک ایسے اسباب ہو سکتے ہیں کہ جس کو فتح کیا ہے اس کو ہمیشہ مفتوح رکھے؟ پروفیسر عبد الحکیم : ایک قوم ہے جو ہمیشہ تنگ کرتی ہے، گھروں پر آ کر حملہ کرتی ہے تو پھر ہماری | قوم کا حق ہے کہ سیلف ڈیفنس (Self Defence) حفاظت خود اختیاری کے طور پر اس کو مفتوح رکھیں۔میں ان جنگوں کو جو اسباب صداقت پر بنی ہوں جائز سمجھتا ہوں امپیریل ازم کو جائز نہیں سمجھتا۔حضرت: کیا ایسی صورت میں یہی جائز ہے کہ ان پر قبضہ رکھا جاوے یا اسی قدر کافی ہے کہ شکست دے دی جاوے؟ عبد الحکیم : جیسی ضرورت ہو اس کے موافق عمل کیا جاتا ہے۔جیسے جرمنی کے متعلق کیا گیا ہے۔کابل کو فتح کرنا آسان ہے مگر کابل پر حکومت مشکل ہے یہ ایک ضرب المثل ہے۔حضرت: خیر، کابل کی حکومت کی مشکلات تو پہاڑی علاقہ کی وجہ سے ہیں یہ بحث نہیں۔آپ کے اس جواب سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ بعض اسباب اور وجوہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ہوتے وئے مفتوح قوم کو دبائے رکھنا جائز ہے۔عبد الحکیم : ہاں بشرطیکہ ان کو تباہ نہ کیا جائے۔حضرت : کہاں تک دبایا جائے ؟ اس کی حد بندی کون کرے گا اور کون حج ہو گا ؟ عبد الحکیم : زبردست اپنا فیصلہ آپ کرتا ہے، اپنا حج آپ ہی ہوتا ہے، اس کا سوسات میں کا ہوتا ہے۔حضرت : اگر یہ اصول درست ہے تو آپ کے پوائنٹ آف ویو (Point of view) سے یہ سوال حل ہو گیا۔انگریزوں نے اپنا فیصلہ آپ ہی کر لیا۔عبد الحکیم : نہیں، یہاں تو موریٹی (Morality) کے پوائنٹ آف ویو سے دیکھا جاوے گا۔( اخلاقی نقطہ نگاہ سے )