زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 149
زریں ہدایات (برائے طلباء) 149 جلد سوم لندن میں ہندوستانی طلباء سے گفتگو سفر یورپ کے دوران 20 ستمبر 1924ء کو شام چار بجے حضرت خلیفۃ المسح الثانی کی طرف مسلمان ہندوستانی طلباء کولندن میں چائے پر بلایا گیا۔اس موقع پر طلباء سے جو سوال و جواب ہوئے وہ درج ذیل ہیں:۔پر مسلم حکمرانوں کی فرمانبرداری ایک طالب علم میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم حکمران قوم کا کس حد تک لائل (Loyal) ہونا چاہیئے۔حضرت اقدس میں اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ سے اصولی طور پر ایک بات پوچھتا ہوں ممکن ہے اس سوال ہی میں اس کا جواب بھی آجائے۔آپ یہ بتائیں کہ اگر مسلمان حکومت ہو تو مسلمانوں کو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کس حد تک کرنی ضروری ہے۔طالب علم: جب تک وہ مسلمان حکومت درست رہے، عدل وانصاف کے قوانین پر عمل کرے اور رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتی رہے اس کا وفادار رہنا ضروری ہے۔اگر وہ ان باتوں کو چھوڑ دے اور غلطیاں کرے تو نہیں۔حضرت اقدس : بہت ٹھیک ہے جب تک وہ نیک رہے اُس وقت تک اطاعت اور فرمانبرداری ضروری ہے۔تو یہی اصول حکومت کی اطاعت کی حد کا ہو گیا۔اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کیا قید رہی۔طالب علم : آخر وہ مسلمان ہیں۔حضرت اقدس: آپ نے جب یہ اصل قائم کیا کہ جب تک مسلمان حکمران نیک کام کریں ان