زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 10

زریں ہدایات (برائے طلباء) 10 جلد سوم بڑے نشان دیکھے تھے حضرت موسی کو کہہ دیا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قعِدُونَ 6 کہ تو اور تیرا رب جاکر ان سے لڑتے پھرو۔ہم تو یہ بیٹھے ہیں۔یہ حضرت موسیٹی کی چالیس سالہ محنت اور مشقت کی تیار کردہ جماعت تھی۔لیکن ادھر رسول کریم ﷺ کے صحابہ کو دیکھو۔مہاجرین تو الگ رہے جو پندرہ سالہ جماعت تھی انصار جنہیں صرف دو ہی سال مسلمان ہوئے گزرے تھے اور جن کو رسول کریم ﷺ نے لکھ دیا ہوا تھا کہ اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑنے کا موقع پیش آئے تو تمہیں لڑنے کے لئے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ہاں اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو تو پھر تمہیں مقابلہ کے لئے ہمارے ساتھ شامل ہونا ہوگا اس لئے وہ باہر جا کر لڑنے کے پابند نہ تھے۔پھر صرف دوسالہ مومن تھے۔اور رسول کریم ﷺ کی صحبت میں صرف ایک سال اور کچھ مہینے ہی انہوں نے گزارے تھے ان کو ایک موقع پر جب رسول کریم کے مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ مہاجرین تو جنگ کے لیے جائیں گے تم بتاؤ تمہاری کیا مرضی ہے؟ تو یہ سن کر ایک انصاری کھڑا ہو کر جواب میں کہتا ہے کہ یا رسول اللہ ! ہم حضرت موسی کے لوگوں کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَّا قُعِدُونَ - اس جواب پر غور کرو۔اور دیکھو کہ اگر حضرت موسی کو شکست ہوتی تو ان کی تمام قوم کی قوم مصیبت میں پھنس جاتی کیونکہ جو حضرت موسی کا دشمن تھا وہ صرف انہی کا نہ تھا بلکہ موسیٰ" کی ساری جماعت کا تھا۔اس لئے اگر وہ حضرت موسی کو شکست دے دیتا تو ساری قوم کو ہی گرفتار کر لیتا۔لیکن کفار مکہ صرف رسول کریم ﷺ کے دشمن تھے انصار کے نہیں تھے۔بلکہ انہیں تو کہتے تھے کہ تم اس کو چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ۔پس اگر وہ ایسے وقت میں آنحضرت کو چھوڑ دیتے تو نہ صرف یہ کہ دشمن کی تکلیف سے بچ جاتے بلکہ فائدہ بھی اٹھاتے۔مگر حضرت موسی کی قوم ان کے شکست کھانے سے کبھی نہیں بچ سکتی تھی۔تو دونوں قوموں میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک تو وہ ہے کہ جس جرنیل کے ساتھ لڑنے سے انکار کرتی ہے اس کے مرنے کے ساتھ اس کی موت ہے مگر باوجود اس کے وہ اسے کہتی ہے کہ جا! تو اور تیرا رب جا کر صلى الله