زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 8
زریں ہدایات (برائے طلباء) 8 جلد سوم باتیں یادرکھ سکیں۔اس کی وجہ آجکل کے طریقہ تعلیم کی خرابی ہے۔مجھے ڈارون پر حیرت آتی ہے وہ کہتا ہے کہ بندر سے ترقی کرتے کرتے انسان بنا ہے لیکن میں نے اکثر لڑ کے ایسے دیکھے ہیں کہ اگر آج ڈارون ہوتا تو کہتا کہ آدمی سے تنزل کرتے کرتے بندر بنے ہیں۔آجکل اندر ہی اندر لڑکوں کی ایسی صحت خراب ہورہی ہے کہ زمانہ طالب علمی میں ہی بیسیوں بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔کوئی مدقوق ہو جاتا ہے، کوئی مسلول ہو جاتا ہے، کوئی کسی اور بیماری میں گرفتار ہو جاتا ہے ایسی صورت میں کہاں ان دلائل کو یاد رکھا جاسکتا ہے۔اس لئے میں تم کو ایک گر بتاتا ہوں جس کو میں نے کثرت سے استعمال کر کے اس بات کا پورا پورا تجربہ حاصل کر لیا ہے کہ جہاں بھی اسے استعمال کیا جائے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔مجھے حضرت خلیفہ اول اپنے زمانہ خلافت میں بعض جگہ بھیج دیتے وہاں جا کر مجھے لیکچر دینا پڑتا۔میری عادت ہے کہ جو لیکچر میں پہلے دے چکوں وہی دوسری دفعہ نہیں دے سکتا۔مگر دیکھا لیا کہ بعض جگہ کے لوگ ایسے اجڈ اور کم علم اور کم عقل ہوتے ہیں کہ جب تک نہایت آسان اور موٹے طریق سے انہیں نہ سمجھایا جائے وہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔اس لئے میں نے ایک ایسا مضمون سوچا کہ جسے ایک زمیندار جو بالکل ان پڑھ اور جاہل ہو اور ایسے علاقے کا رہنے والا ہو جہاں کے مولوی اور ملانے چھریاں پڑھوا کر رکھ چھوڑتے ہیں وہ بھی سمجھ لے۔ہمارے ملک میں بعض ایسے علاقے بھی ہیں کہ وہاں کے مولوی اور امام مسجد بسمِ اللهِ الرَّحْمَانِ الرَّحِیمِ پڑھنا بھی نہیں جانتے۔اس لئے وہ جانور وغیرہ ذبح کرنے کے لئے اپنی چھریوں پر کسی سے بسم الله الرَّحْمَانِ الرَّحِیمِ پڑھوا کر رکھ چھوڑتے ہیں۔جب کبھی انہیں جانور ذبح کرنے کی ضرورت پڑے تو اسی چھری سے کرتے ہیں دوسری استعمال نہیں کرتے۔تو جہاں کے مولویوں کا یہ حال ہو وہاں کے دوسرے لوگوں کی نسبت سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اسلام کے متعلق کس قدر واقفیت رکھتے ہوں گے اور کہاں تک اسلامی مسائل کے سمجھنے کے اہل ہوں گے لیکن میں نے ایسا مضمون تیار کیا ہے کہ ایسے لوگ بھی سمجھ جائیں۔اس وقت میں تمہیں بھی وہی بتا تا ہوں کیونکہ تم بھی ذرا مشکل باتیں نہیں سمجھ سکتے۔اور اگر سمجھ لوتو پھر یاد نہیں رکھ سکتے۔میں نے اس مضمون کا خدا کے فضل ނ