زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 118

زریں ہدایات (برائے طلباء) 118 جلد سوم کالجوں کے احمدی طلباء سے خطاب دسہرہ کی تعطیلات پر لاہور کے مختلف کالجوں کے طلباء قادیان آئے۔17 اکتوبر 1923ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ہال میں ان کی طرف سے ایک ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ المسح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد جو خطاب فرمایاوہ حسب ذیل ہے۔”میرے بعض عزیزوں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں اس موقع پر تقریر کروں لیکن تقریر کے لغوی معنے ” قرار پر دلالت کرتے ہیں بلکہ قرار دینے پر دلالت کرتے ہیں ( گواصل معنے استعمال میں اور لئے جاتے ہیں ) اور قرار تب ہی کوئی کسی کو دے سکتا ہے جب پہلے خود سے قرار ہوتا ہے۔لیکن اس وقت میں جسمانی اور ذہنی طور پر قرار نہیں پاتا کہ تقریر کر سکوں۔جسمانی قرار تو اس لئے نہیں کہ مجھے جو حرارت ہو جایا کرتی ہے وہ اس وقت شروع ہو گئی ہے اور ذہنی قرار اس لئے نہیں کہ جس موقع پر بولنے کے لئے کہا گیا ہے وہ ہمارے ملک اور قوم کے دستور کے خلاف ہے اور اس بات کا میرے دماغ پر بہت بڑا اثر ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جس قدر انسان ترقی کرتا جاتا ہے اور اس کی عقل تیز ہوتی جاتی ہے وہ رسوم اور رواج کو چھوڑتا جاتا اور ان سے بالا ہوتا جاتا ہے۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض رسوم میں اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں اور وہ رسوم باطنی اخلاق کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں ان اخلاقی جذبات کے اظہار کی رسومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو لوگ کسی جگہ کے رہنے والے ہوں وہ میزبان ہوتے ہیں اور جو باہر سے آئیں وہ مہمان ہوتے ہیں۔اور ان ظاہری علامتوں میں سے جو اس خلق کے اظہار کے لئے مقرر ہیں اور میں سمجھتا ہوں بہترین