زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 105

زریں ہدایات (برائے طلباء) 105 جلد سوم نہیں رکھی گئی بلکہ کوشش کی گئی ہے کہ دوسروں کے فقرات کے مشابہ اپنے فقرات بنا ئیں اس لئے ایڈریس میں مجھے وہ جان نظر نہیں آئی جو ہونی چاہئے تھی۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی کی نقل | کرنے کی قطعاً کوشش نہ کرو۔زبان اور محاورہ کی صحت کا خیال رکھو مگر اپنے جذبات کو اپنے الفاظ میں نکلنے دو وہی دوسروں پر اثر کریں گے اور وہی کوئی تغیر پیدا کرسکیں گے۔تو ایک تو یہ بات ہو کہ تقریر میں ایک جوش ہو جو احساسات اور جذبات کو ابھارے۔دوسرے یہ بھی ہو کہ بات موقع اور محل کے مناسب ہو۔میں نے پہلے بھی یہ نصیحت کی تھی اور اب پھر کرتا ہوں چونکہ یہ دن طالب علمی کے ہیں اس لئے بچے نہیں سمجھتے لیکن اگر اب نہ سمجھیں گے تو پھر بڑے ہو کر بھی نہیں سمجھیں گے۔اس لئے استادوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جب طلباء سے تقریریں کرائیں تو خیال رکھیں وہ اپنے جوش سے کلام کریں۔ان میں نقالی نہ ہو۔اس کے بعد میں ان کے لئے جو امتحان کے لئے جانے والے ہیں اور ان کے لئے جنہوں نے یہ دعوت کی ہے اور ان کے لئے جو دعوت میں شامل ہوئے ہیں اور ان بچوں کے لئے جو بعد میں آئے ہیں دعا کرتا ہوں۔“ (الفضل 4 مئی 1922ء)