زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 97
زریں ہدایات (برائے طلباء) 97 جلد سوم مدرسہ احمدیہ قادیان کے متعلق حضرت خلیفۃ الثانی کا ارشاد برادران جماعت احمدیہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مدرسہ احمدیہ کے منتظمین کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کا پراسپیکٹس چھاپ کر آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس موقع پر میں بھی کچھ الفاظ مدرسہ کی سفارش کے طور پر تحریر کردوں۔میں حیران ہوں کہ اس مضمون پر کیا تحریر کروں۔مدرسہ احمدیہ کی ضرورت اور اس کا فائدہ ایسا بین ہے کہ یہ خیال بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے کہ جماعت کی توجہ اس کی طرف ویسی نہیں ہے جیسی کہ ہونی چاہئے۔مدرسہ احمدیہ کی ضرورت کے متعلق صرف اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسیح موعود نے دنیا میں کوئی کام کیا ہے اور اگر آپ کا وجود دنیائے اسلام میں کسی قسم کا تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو پھر مدرسہ احمد یہ یا ایسے ہی کسی درسگاہ کے بغیر خواہ اس کا کچھ ہی نام رکھ لیا جاوے چارہ نہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی متفرق تحریرات میں تحریر فرمایا ہے۔آپ کا صرف یہی کام نہیں تھا کہ مسیح ناصری کی وفات کی طرف توجہ دلائیں بلکہ آپ نے رائج الوقت اسلامی عقائد، رائج الوقت اسلامی تغییر ، رائج الوقت علم حدیث ، رائج الوقت علم کلام اور رائج الوقت علم فقہ اور اصول فقہ، رائج الوقت علم تصوف اور رائج الوقت علم اخلاق میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان علوم کے لئے آپ نے نیا آسمان نئی زمین پیدا کر دی ہے۔اور اسی کی طرف اس کشف میں اشارہ ہے جس پر نادان مخالف آج تک ہنسی اڑاتا اور آپ کو خدائی کا دعویدار قرار دیتا ہے۔اس عظیم الشان تغیر علمی میں جو پچھلے تیرہ سو سال کے اندر اپنی نظیر آپ ہی ہے اور نہ معلوم کتنی صدیوں تک