زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 368

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 368 جلد دوم اس کی حفاظت ہمارے شامل حال رہے گی اور ہم دنیا میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔حضور نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔دنیا میں جتنی بھی فاتح قو میں گزری ہیں انہوں نے پہلے اپنے وطنوں کو چھوڑا اس کے بعد ہی انہیں فتوحات نصیب ہوئیں۔عربوں نے اپنے وطن کو چھوڑا، ترکوں نے چھوڑا، یہودیوں نے چھوڑا ، آرین نسل کے لوگوں نے چھوڑا اور وہ دور دور ملکوں میں پھیل گئے۔اگر وہ اپنے وطنوں کو نہ چھوڑتے تو انہیں فتوحات نصیب نہ ہوتیں اور وہ نئے نئے ملکوں کے وارث نہ بنتے۔پس اگر ہمیں بھی خدا کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے وطن چھوڑنے پڑیں تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔قربانیوں کا تسلسل اس موقع پر حضور نے جامعتہ المبشرین کے طلبہ کوخصوصیت سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ایک ہجرت قومی ہوتی ہے اور ایک ہجرت فردی ہوتی ہے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم ، مولوی محمد شریف صاحب، مولوی جلال الدین شمس صاحب اور اسی طرح ہمارے دوسرے مبلغوں نے اپنے وطن سے دس دس پندرہ پندرہ سال مهجوری اختیار کر کے دوسرے ممالک میں دین کی خدمت کا فریضہ ادا کیا وہ فردی ہجرت کا ہی ایک نمونہ ہے۔ان سب کی مثالیں تمہارے سامنے ہیں۔ان قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا تمہارا کام ہے۔اگر قربانیوں کا یہ تسلسل جاری رہے تو پھر فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسی قوم کبھی ضائع نہیں ہو سکتی۔جو قوم قربانیوں کے تسلسل کو جاری رکھتی ہے یعنی اس میں قربانیوں کا سلسلہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے تو پھر اس قوم کا ہر فرد بجائے خود ایک امت کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اس کو ایک طرح سے دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔کیونکہ افراد مر سکتے ہیں امتیں نہیں مرتیں۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا ہے اِنَّ اِبْرهِیمَ كَانَ أُمَّةً 1 کہ ابراہیم ایک امت تھا۔یہی وجہ ہے کہ ابراہیم کا نام آج تک زندہ ہے اور ہم ان کے نام پر درود بھیجتے چلے آ رہے ہیں۔اسی لئے میں نے وقف کی تحریک کے متعلق تمہیں کہا تھا کہ تم خدمت دین کے لئے زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کو اپنی نسلوں