زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 28

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 28 جلد دوم میں جائیں۔ماسٹروں اور طالب علموں سے اچھے اچھے تعلقات پیدا کریں۔بڑے خاندانوں کے نوجوانوں سے تعلقات بڑھائیں۔ان کو تبلیغ کریں۔پھر دیکھو چند سال میں ملک کا نقشہ کس طرح بدل جاتا ہے۔جب بڑے بڑے خاندانوں کے نوجوان احمدی ہو جائیں گے تو ان کے خاندان احمدیوں پر تشدد نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کی مخالفت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔ایک اور بات یہ ہے کہ تبلیغ کے لئے عمدہ اخلاق اور لہجہ میں نرمی کی بے حد ضرورت ہے۔وہ خشونت جس نے پرانے علماء کو بدنام کر رکھا ہے وہ کسی احمدی میں نہ ہونی چاہئے۔اسلام سچائی ہے اور سچائی کو کوئی چیز مغلوب نہیں کر سکتی۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ جس۔بات کریں اس سے لڑ پڑیں۔اگر ہم دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے ملتے ہوئے اخلاق کو مد نظر نہ رکھیں گے تو اثر نہ ہو گا۔ایک بات کو عمدگی سے پیش کرنے پر جو اثر ہو سکتا ہے وہ برے رنگ میں پیش کرنے سے نہیں ہو سکتا۔مثلا اگر یوں کہیں کہ مسلمانوں میں یہ نقائص اور یہ کمزوریاں پیدا ہو گئیں اور ان کے ایمان میں نقص آ گیا ہے تو ہر شخص اسے تسلیم کر لے گا۔لیکن اگر جو ملے اسے خواہ مخواہ کہا جائے کہ تم کا فر ہوتو وہ متنفر ہو جائے گا۔جب کسی کو کافر کہتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ ایمان کا ایک درجہ ہے وہ اس میں نہیں۔ورنہ کئی باتیں ایمان کی اس میں پائی جاتی ہوں گی۔جس طرح ایک طالب علم امتحان میں پانچ نمبروں کی کمی کی وجہ سے بھی فیل ہو جاتا ہے اسی طرح وہ بھی ایمان میں نقص کی وجہ سے مومن نہیں کہلا سکتا۔تو نقص تسلیم کرنے کے لئے ہر شخص تیار ہو جائے گا اور پھر اس کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ ہو سکے گا۔پس ہمارے مبلغین کو تبلیغ ایسے رنگ میں کرنی چاہئے کہ کسی قسم کے جھگڑے فساد کا شائبہ نہ ہو۔پھر مبلغ اپنے اخلاق ایسے بنا ئیں کہ کسی کو ان سے خواہ مخواہ شکایت نہ پیدا ہو۔اور وہ ایسے رنگ میں کلام کریں کہ کسی کی دل شکنی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بعض باتیں ایسے رنگ میں لکھی ہیں کہ لوگ انہیں سمجھ جائیں اور کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو۔مثلاً آپ نے جو نبوت کی