زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 27

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 27 جلد دوم اہل مکہ کی زبان میں رذیل تھے۔کیونکہ ان کے پاس دولت نہ تھی ، وجاہت نہ تھی مگر یوں خاندانی لحاظ سے رذیل نہ تھے۔اسی طرح زیر اپنی ذات میں رذیل سمجھے جاتے تھے مگر خاندان کے لحاظ سے رذیل نہ تھے۔آخر ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کا خاندان بھی اسلام میں داخل ہو گیا۔حضرت عمر کی بہن اور بہنوئی اراذل میں سے تھے مگر ان کے اسلام لانے کا وہی ذریعہ بنے۔اس وقت تک ہمارے مبلغ عام طور پر اس بات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اول تو وہ سمجھتے ہیں کہ امراء کو تبلیغ کرنی مفید نہیں۔اور اگر کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو جن کے دل لمبے عرصہ کے زنگ کی وجہ سے سیاہ ہو چکے ہیں۔حالانکہ چاہئے یہ کہ ان خاندانوں کے نو جوانوں کو تبلیغ کی جائے۔دیکھو اس بات سے مکہ فتح کرنے میں کس قدر مدد لی تھی اور اسی وجہ سے قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شامل کیا گیا کیونکہ اسلام کی کامیابی میں ان کو بھی دخل تھا۔اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں کے نو جوانوں کو چن لیا اور انہیں رسول کریم ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔اس وجہ سے کفار مسلمانوں پر سختی کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے بھی بعض اوقات سختی نہ کر سکتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے لوگوں کے پاس بھیجنا چاہا تو عرض کیا گیا کہ مکہ کے لوگ ان کی بات نہیں سنیں گے عثمان کو بھیجا جائے۔چنا نچہ ان کو بھیجا گیا۔جب کفاران کو مارنے لگے تو ان کے رشتہ دار کھڑے ہو گئے۔غرض بہترین ذریعہ تبلیغ کا یہ ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے نو جوانوں کو تبلیغ کی جائے۔اور قرآن سے دو ہی اطراف کا پتہ چلتا ہے جہاں سے لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو مظالم کے نیچے دبے ہوتے ہیں یا وہ خاندان جو اپنی شوکت کھو چکتے اور گر جاتے ہیں۔ان کو اراذل کہتے ہیں۔لیکن یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو جلد سچائی قبول کر لیتے ہیں اور ملک میں ہیجان پیدا کر دیتے ہیں۔یہ ایسی بات ہے جس کی طرف اس وقت تک ہمارے مبلغین نے بہت کم توجہ کی ہے۔انہیں چاہتے کہ جہاں جائیں وہاں کے سکولوں