زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 312
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 312 جلد دوم جائے گا اور وہ کچھ بھی اس سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اور جب تک یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلتا چلا جائے گا اسے زیادہ سے زیادہ شان و شوکت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔لیکن جس دن خدانخواستہ یہ سلسلہ اس راستہ سے ہٹ گیا ( اور ابھی یہ بہت دور کی بات ہے ) تو پھر تم اٹھاؤ گے تو یہ نہیں اٹھے گا اور تم روکوں کو دور کرو گے تو وہ دور نہیں ہوں گی۔پھر دفتر کی بدانتظامی کی وجہ سے جو مبلغین پہلے بیرونی ممالک سے آتے تھے وہ چھ چھ مہینے ، سال سال، دو دو سال تک فارغ بیٹھے رہتے تھے اور ان سے کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔اب میں نے ہدایت دے دی ہے کہ مبلغین کو با قاعدہ رخصت دو اور پھر رخصت سے واپس آنے پر ریفریشر کورس انہیں دیا جائے اور جن کے لئے یہ ضروری نہ ہوا نہیں دفاتر میں کام پر لگایا جائے۔اس طرح ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کے ذریعہ سلسلہ بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مثلاً اگر ایسٹ افریقہ میں کام کرنے والے مبلغ کو ویسٹ افریقہ کی ڈاک کے کام پر لگا دیا جائے یا ویسٹ افریقہ کے مبلغ کو انڈونیشیا کی ڈاک کی کا کام سپرد کر دیا جائے اور وہ ان کی فائلیں وغیرہ دیکھتے رہیں اور مبلغین سے خط و کتابت کی کرتے رہیں تو تھوڑے عرصہ میں ہی وہ اُس ملک کے حالات سے باخبر ہو جائیں گے۔اور پھر اگر اس مبلغ کو اسی ملک میں بھجوا دیا جائے تو وہاں وہ آسانی سے کام کر سکے گا۔بہر حال وقت کو ضائع کرنا نا پسندیدہ امر ہے۔اس سے دماغ کند ہو جاتا ہے اور انسان کی طاقتیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔میں نے اب حکم دے دیا ہے کہ اگر نظارت کسی مبلغ کو فارغ رکھے گی اور اس سے کام نہیں لے گی تو اسے سزا دی جائے گی۔اس کے بعد میں طالب علموں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں درسی کتب کے علاوہ مختلف علمی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہنا چاہئے اور اس طرح اپنی معلومات کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا چاہئے۔تمہارے استاد تمہیں یہاں قرآن کریم پڑھاتے ہیں مگر تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ غیر احمدی مولوی قرآن کریم سے کیا نتیجہ نکالتے ہیں۔تمہارے استاد