زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 311

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 311 ا جلد دوم تم مت خیال کرو کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو احمدیت کے رستہ میں روک بن سکتا ہے یا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس کی وجہ سے احمد بیت کو مددمل رہی ہے۔نہ احمدیت کے رستہ میں کوئی شخص روک بن سکتا ہے اور نہ حقیقی طور پر کسی کی مدد کے ذریعہ احمدیت ترقی کر رہی ہے۔جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہوئے تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ بڑا بولنے والا انسان تھا اب یہ جماعت گئی۔مگر جماعت آگے سے بھی بڑھ گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو مولویوں نے کہا سلسلہ ختم ہو گیا۔مگر جماعت آگے سے بھی بڑھ گئی۔پھر لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اصل میں تمام کام نورالدین کا تھا وہی مرزا صاحب کو سکھا یا کرتا تھا اب اس کی وفات پر یہ جماعت ختم ہو جائے گی۔لیکن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور جماعت نے پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنی شروع کر دی۔پھر پیغامیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایک پچیس سال کا لڑکا خلیفہ بن گیا ہے اب یہ جماعت کو تباہ کر دے گا۔مگر آج 36 سال گزر چکے ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ جماعت تباہ نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔اس وقت جتنے ممالک میں ہمارے مبلغین موجود ہیں ان ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص بھی احمدی نہیں تھا اور کوئی بھی آپ کے نام کو نہیں جانتا تھا۔نہ سوڈان والے آپ کو جانتے تھے، نہ انڈونیشیا والے آپ کو جانتے تھے، نہ جرمنی والے آپ کو جانتے تھے، نہ دوسرے ممالک میں کوئی احمدی موجود تھا۔ان تمام ممالک میں میرے زمانہ میں ہی احمدیت کا نام پہنچا ہے۔پس جب تک خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ ہے کوئی فرد ہمارے راستہ میں روک نہیں بن سکتا۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہ ہم کتنی بھی عزت کریں ہمیں ماننا پڑے گا کہ جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہیں بنایا، ہمیں ماننا پڑے گا کہ جماعت کو خلیفہ اول نے نہیں بنایا، ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس جماعت کو خلیفہ ثانی نے بھی نہیں بنایا۔اسی طرح کوئی شخص خواہ کتنی بھی پوزیشن رکھتا ہوا گر وہ احمدیت کے مقابلہ میں کھڑا ہوا تو وہ ایک مکھی کی طرح اس سلسلہ میں سے نکال دیا