زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 293

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 293 جلد دوم جب اس قسم کی تقاریب میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں تو ہماری کچھ اور غرض ہوتی ہے۔اور وہ غرض یہ ہے کہ ایسے مواقع پر جب آنے والوں کا اعزاز کیا جاتا ہے تو دوسرے نو جوانوں کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے جس میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہئے۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ فلاں مبلغ جا رہا ہے یا آرہا ہے اور اُس کے لئے نعرے لگ رہے ہیں، مرحبا اور تحسین کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو نو جوان طبیعتیں جو ان باتوں سے بڑی جلدی متاثر ہوتی ہیں فورا یہ خیال کرنے لگ جاتی ہیں کہ اوہو! ہم تو محروم ہی رہ گئے۔اگر ہم جاتے تو ہمارے لئے بھی نعرے لگتے اور ہمیں بھی مرحبا اور جَزَاكَ الله کہا جاتا۔ان کا دماغ ابھی اتنا پختہ نہیں ہوتا کہ وہ اس فعل کے روحانی نتائج پر نظر ڈال سکیں لیکن نعروں اور مرحبا اور تحسین کی آوازوں کا ان پر گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ نعرے انہیں دینی خدمت کی طرف زیادہ سے زیادہ مائل کرتے چلے جاتے ہیں۔پس ان دعوتوں سے ایک تو ہماری یہ غرض ہوتی ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں تحریک پیدا ہو اور وہ بھی اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے پیش کریں۔تم اسے نفسانیت کہہ لو مگر چونکہ اس سے ہماری ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ خدا اور خدا کے دین کو فائدہ پہنچتا ہے اس لئے یہ کوئی بری چیز نہیں۔در حقیقت ہمارا یہ طریق ایسا ہی ہوتا ہے جیسے شکاری مچھلی کے شکار کے لئے کنڈی ڈالتا ہے تو اس کے ساتھ آٹا بھی لگا دیتا ہے تاکہ مچھلی آئے اور پھنس جائے۔اس طرح یہ بھی نو جوانوں کو پھانسنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے مگر چونکہ وہ دین کیلئے پھانسے جاتے ہیں، خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے پھانسے جاتے ہیں اس لئے خواہ ننگے الفاظ میں اسے مچھلی کے شکار سے مشابہت دے لو بہر حال یہ شکار مبارک ہے کیونکہ یہ شکار اپنے لئے نہیں کیا جاتا، اپنے عزیزوں کے لئے نہیں کیا جا تا بلکہ خدا اور اُس کے رسول کے لئے کیا جاتا ہے۔دوسرا فائدہ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والوں اور جانے والوں کے لئے بعض خیالات جو مستقل حیثیت رکھتے ہیں ان کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے۔انسانی دماغ