زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 292

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 292 جلد دوم علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب 8 مئی 1950ء کو جامعتہ المبشرین کے احاطہ میں بیرونی ممالک سے آنے اور کچھ جانے والے مبلغین کے اعزاز میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی طرف سے ایک دعوت چائے کا انتظام کیا گیا۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔’ہمارے ہاں ایسے مواقع پر عموماً تین تقریروں کا رواج ہے۔ایک تقریر داعی جماعتوں یا داعی جماعت کی طرف سے ہوتی ہے۔دوسری تقریر آنے والے صاحب کی طرف سے ہوتی ہے اور تیسری تقریر سے متعلق مجھ سے امید کی جاتی ہے کہ میں آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔لیکن آج چونکہ میں ہی داعی ہوں اور پہلے اور پیچھے کی تقریریں کچھ بے معنی سی ہو کر رہ جاتی ہیں اور پھر مدعو دین اتنے ہیں کہ ایک ہی قسم کے خیالات کے تکرار سے بدمزگی پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے اس لئے اس عام طریق کے خلاف میں نے یہی پسند کیا کہ صرف میں ہی اپنے خیالات کو ظاہر کر دوں۔جہاں تک دعوت کرنے والوں کا یہ طریق ہے کہ وہ آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں یا جہاں تک آنے والوں کا یہ طریق ہے کہ وہ دعوت کرنے والوں کا شکر یہ ادا کرتے ہیں یہ محض ایک رسمی بات ہے۔یہ صاف بات ہے کہ دعوت کرنے والا تبھی دعوت کرے گا جب وہ خوش ہوگا۔اگر وہ خوش نہیں ہو گا تو دعوت کیوں کرے گا۔پھر یہ بھی صاف بات ہے کہ جب کوئی شخص دعوت کرے گا تو کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھے گا اور دوسرا شخص بہر حال ممنون ہو گا۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص دعوت کرے اور دوسرا شکر یہ بھی ادانہ کرے۔پس یہ طبعی تقاضے ہیں جن کو قدرتی طور پر انسان ہمیشہ ظاہر کرتا رہتا ہے۔لیکن ہم