زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 273
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 273 جلد دوم ایک واقف زندگی مبلغ کو ہدایات 13 جولائی 1945ء کو مکرم شیخ عبد الواحد صاحب سابق مبلغ ایران و چین کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جو ہدایات دی تھیں اور اب تک غیر مطبوعہ تھیں وہ حسب ذیل ہیں :۔(1) وقف زندگی کا جو مقصد ہے اسے ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہئے۔اگر ایک شخص زندگی وقف کرتا ہے اور وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے میں کو تا ہی سے کام لیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دہرا مجرم بنتا ہے:۔(2) با قاعدہ اور تفصیلی رپورٹ ایسے رنگ میں آنی چاہئے کہ مرکز دور بیٹھے ہی اُس علاقہ کی ضرورتوں اور اس کے مقاصد اور اس کے علاجوں اور اس کے سیاسی ، اقتصادی، علمی ، اخلاقی اور مذہبی حالات کو سمجھ سکے۔یہ کام کا اہم ترین جزو ہے۔اور کسی واقف کے وقف توڑنے کے لئے یہ بہت کافی وجہ ہے کہ وہ اپنی رپورٹیں با قاعدہ اور وقت پر اور پھر صحیح طور پر نہیں بھیجتا خواہ وہ اپنے نقطہ نگاہ میں معین الدین چشتی یا قطب الدین بختیار کا کی ہی کیوں نہ ہو۔اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ فردی اصلاح کے علاوہ اجتماعی اصلاح کے لئے بھی آیا ہے۔اور اجتماعی اصلاح اور ترقی بغیر نظام کے نہیں ہو سکتی۔اور کوئی نظام بغیر اطاعت اور فرمانبرداری کے اور مرکز سے صحیح اور مکمل تعلق رکھے - بغیر نہیں چل سکتا۔(3) زبانی تبلیغ بھی بڑی چیز ہے مگر اصلی تغیر اور اثر عملی نمونہ سے ہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔جب انسان کے اندر ایثار، صداقت اور جذبات پر قابو رکھنے اور دوسروں کے جذبات کے احترام کرنے کا مادہ نہ پایا جاتا ہو تو اس مبلغ کو ملنے والے اسے منافق اور