زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 233
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 233 جلد دوم عطا فرما کہ جس بادشاہ نے مجھ پر اتنا رحم کیا ہے اُس کی دیانتداری سے خدمت کروں۔محمود نے جب ایاز کی یہ دعاسنی تو اس کے پاؤں سوسومن کے ہو گئے اور اُس نے دل میں کہا کہ میں نے کتنے قیمتی جو ہر پر بدظنی کی ہے۔ایاز نماز پڑھ کر اور گدڑی کو پھر اسی جگہ رکھ کر اور اپنا لباس پہن کر چلا گیا۔بعد ازاں محمود وہاں سے اٹھا اور واپس آیا اور اس نے پہرہ داروں کو کہا کہ خبردار! میرے آنے کا ایاز کو علم نہ ہو۔مگر اس تمام تر خدمت کے باوجود ایاز غلام ہی کہلاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں تم اپنے آپ کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کسی بندے کا غلام ہونے سے بچا کر صرف اپنی غلامی بخشی۔یہ کتنا بڑا احسان ہے اللہ تعالیٰ کا۔اس کے بعد بھی اگر تم اپنے رب کو کوئی الگ وجود سمجھو تو تم سے زیادہ احمق اور جاہل کوئی نہیں ہوگا۔ہماری سب عزتیں احمدی ہونے کی وجہ سے ہیں اور کوئی امتیاز ہم میں نہیں۔بعض کاموں کی مجبوریوں کے لحاظ سے ایک افسر بنا دیا جاتا ہے اور دوسرا ما تحت ورنہ حقیقی امتیاز ہم میں کوئی نہیں۔حقیقی بڑائی خدمت کرنے سے حاصل ہوتی ہے خاندان کی وجہ سے نہیں۔ہمارا خاندان دلی کے شاہی خاندان سے بڑا نہیں گو ہم انہی میں سے ہی ہیں مگر وہ بہر حال بادشاہ تھے اور بادشاہ رتبہ میں بڑے ہوتے ہیں مگر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ دہلی کے شہزادے بازاروں میں لوگوں کو حقہ پلاتے پھرتے ہیں اور بعض کی یہ حالت ہوتی ہے کہ مرجانے کی صورت میں ان کے لئے کفن بھی مہیا نہیں ہوتا۔ان کے ہمسائے گورنمنٹ کو لکھ دیتے ہیں کہ فلاں بادشاہ کا پوتا بغیر کفن کے مرا پڑا ہے اس کیلئے کفن دیا جائے۔اور گورنمنٹ ان کیلئے کفن مہیا کر دیتی ہے۔یہ بڑائیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اور جب وہ چاہتا ہے چھین بھی لیتا ہے۔پس عزت کا جو چو نہ تم پہنو وہ دوسروں سے مانگا ہوا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سے ہونا یا میرا بیٹا ہونا یہ تو مانگا ہوا چوغہ ہے۔تمہارا فرض ہے کہ تم خود اپنے لئے لباس مہیا کرو۔وہ لباس جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یعنی لباسُ التَّقْوى ذلك خير تقویٰ کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے۔غرض تم احمدیت کے خادم بنو پھر