زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 17

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 17 جلد دوم جاتی رہی ہے۔اس لئے نہ صرف اسلام کی حفاظت کے لئے خود یہ طریق اختیار نہیں کرتے بلکہ اس کے اختیار کرنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔اگر ان کے دل میں اسلام کی محبت ہوتی تو یہ اعتراض کیوں کرتے۔یہ کوئی گالی نہیں بلکہ عیسائیوں کے معتقدات پر اعتراض ہے۔مگر یہ لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے حضرت عیسی علیہ السلام پر اعتراض کئے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر اسلام کے بچانے کے لئے یہ ضرورت پیش آئے کہ سارے انبیاء کے متعلق یہ پہلو اختیار کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔غرض ہر انسان کے لئے سب سے مقدم چیز روحانیت ہے جسے یہ حاصل ہو وہ ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔دراصل تلوار ایک ہی ہوتی ہے مگر چلانے والوں کے فرق کی وجہ سے نتائج مختلف نکلتے ہیں۔کہا جاتا ہے ایک شخص بہت اچھی تلوار چلا سکتا تھا۔ایک ہی وار سے گھوڑے کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالتا تھا۔شہزادہ نے اس سے تلوار مانگی مگر اس نے نہ دی۔اس پر شہزادہ نے باپ سے شکایت کی اور بادشاہ نے تلوار چلانے والے کو ڈانٹا کہ کیوں تم نے تلوار نہیں دی۔اس نے کہا بادشاہ سلامت ! مجھے تلوار دینے میں تو کوئی عذر نہیں مگر اس تلوار میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔آخر اس نے تلوار دے دی اور شہزادہ نے مارنی شروع کی لیکن اس سے کچھ بھی نتیجہ نہ نکلا۔ہمارے مبلغوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ تلوار چلانے والے بنیں۔وہ ایک ذریعہ ہیں جن کے پیچھے خدا کی قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کرنی چاہئے جس کی ہمارے نوجوان علماء میں کمی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے مبلغ اپنے اس سفر میں اور اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کی کوشش کریں۔اگر یہ بات انہیں حاصل ہو جائے تو ساری دنیا بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔لیکن اگر وہ اس سے محروم رہیں تو ساری دنیا بھی ان کے ذریعے ہدایت پا جائے تو انہیں کیا فائدہ۔پس سب سے پہلے انہیں اپنے نفس کا خیال رکھنا