زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 209
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 209 جلد دوم چہرے پر تھپڑ مارا جس سے ان کی ایک آنکھ نکل گئی اور ایک شخص نے ان سے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میری حفاظت میں آجاؤ مگر تم نے نہ مانا اور اپنی آنکھ ضائع کرائی۔اس پر انہوں نے کہا اگر اسلام کی راہ میں میری دوسری آنکھ بھی ضائع ہو جائے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔2 انہوں نے اسلام کی فتح کا ایک دن بھی نہیں دیکھا تھا۔لیکن کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ خدا کے فضل سے محروم رہے اور انہیں کوئی صلہ نہیں ملا؟ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کے وارث ہوئے۔پس یہ مت خیال کرو کہ اس دنیا کی کامیابیاں حقیقی کامیابیاں ہیں۔مومن کا کام یہ نہیں کہ وہ اس دنیا کے صلہ کی طرف نگاہ رکھے۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتا ہوا کام کرتا چلا جائے۔پس جاؤ اور اس یقین سے کام کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں تمہارے کاموں کا صلہ ضرور دے گا۔اس دنیا کی کامیابیوں کی طرف نگاہ مت کرو۔اگر تم پچاس سال تک کوشش کرتے رہو اور ناکام رہو یہاں تک کہ مرجاؤ تو مت سمجھو کہ تم نا کام رہے ہو۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اگلے جہان میں اس کا صلہ دے گا۔ہمارا خدا رحیم اور کریم خدا ہے اس پر بدظنی مت کرو۔بلکہ ہمیشہ اس پر یقین رکھو کہ وہ بدلہ کے دن ضرور بدلہ دے گا۔پس خدا پر شک لائے بغیر قربانی کرو۔بالکل ممکن ہے کہ تمہاری قربانیوں کا اس جہان میں صلہ نہ ملے لیکن خدا تعالیٰ کے وعدہ پر شبہ نہ کرو۔تمہاری قربانیاں محض خدا تعالیٰ کے لئے ہوں اور تم خدا تعالیٰ سے سودا کرنے والے مت بنو۔جب تمہاری ہر چیز اسی کی دی ہوئی ہے تو اس سے زیادہ بے حیائی کیا ہوگی کہ تم اسے کہو کہ آ اور ہمارے ساتھ سودا کر۔جو شخص ایسا کرے گا خدا تعالٰی اسے دھتکار دے گا کیونکہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے دروازے سے راندہ جاتا ہے جو اس پر کسی قسم کا شبہ کرتا ہے اور اس سے سودا کرنا چاہتا ہے۔لیکن جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ یا تو اس دنیا میں بھی بدلہ پالیتا ہے یا پھر آخرت میں یقیناً پالیتا ہے۔اگر وہ اس دنیا میں بدلہ نہیں پاتا تو آخرت میں اسے مل جاتا ہے۔پس تمہیں چاہئے کہ بچے مومن بن جاؤ تاکہ تمہاری زندگی اسلام کے کام آنے والی ہوا اور خود تمہارے