زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 208
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 208 جلد دوم پس مومن مصیبتوں سے نہیں ڈرا کرتے اور نہ مصیبتیں ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ جب مومن کو ابتلا میں ڈالتا ہے اور وہ اسے بخوشی جھیلنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا صلہ اس جہان میں یا اگلے جہان میں ضرور دیتا ہے۔لیکن وہ جو جھوٹا ہوتا ہے اور جس کے دل میں ایمان نہیں ہوتا وہ نہ اس جہان میں کامیاب ہوتا ہے اور نہ اگلے جہان میں اسے کوئی صلہ ملتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ قربانیوں کا صلہ اس جہاں میں ملے۔پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں قربانیاں کی ہیں مگر اسے اس جہان میں اس کا صلہ نہیں ملا وہ حقیقی ایمان سے محروم ہے۔وہ قربانیاں کرتا ہے لیکن وہی دن جس کی شام کو اس کے لئے جنت کے دروازے کھلنے والے ہوتے ہیں اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔کس قدر بد بخت ہے وہ انسان کہ جب اس کی محنتوں کے پھل لانے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں سے اسے ضائع کر دیتا ہے۔خدا کی راہ میں ہمیشہ وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو ہر قسم کے ڈر اور خوف - سے بالا ہو اور جو یہ فیصلہ کر لے کہ خواہ اسے اس دنیا میں صلہ ملے یا نہ ملے اور خواہ وہ دکھ سہتے سہتے مر جائے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف برداشت کرنے سے ہر گز منہ نہیں موڑے گا۔کتنا نادان ہے وہ شخص جو یہ بجھتا ہے کہ اس دنیا میں اسے بدلہ ملنا چاہئے۔اگر ایک شخص یہاں تمام عمر تکلیف اٹھاتا ہے لیکن آخرت میں اسے نہایت عمدہ صلہ مل جاتا ہے تو یہاں کی تکلیف اس صلہ کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی اور وہ شخص گھاٹا پانے والا نہیں۔پس اپنے اندر استقلال کی روح پیدا کرو کیونکہ استقلال کے بغیر صلہ سے بے پروائی ممکن نہیں۔اگر اس دنیا میں بدلہ کا ملنا ضروری ہوتا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ رسول کریم ﷺ کے چا حضرت حمزہ جن سے آنحضرت ﷺ کو انتہائی محبت تھی اور جنہوں نے جوانی کی عمر میں رسول کریم ﷺ کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور اسی عمر میں شہید ہو گئے صلہ سے محروم رہے۔پھر کیا حضرت عثمان بن مظعون صلہ سے محروم رہے جو کہ اسلام کی محبت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ ایک دفعہ جب ایک مجلس میں ایک دشمن اسلام نے ان کے