زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 193

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 193 جلد دوم يَا رَسُولَ اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کی خدمت میں لے آؤں تا ایسا نہ ہو آپ کسی اور شخص کے ذریعہ اسے مروا دیں تو کسی مسلمان کے متعلق میرے دل میں برائی پیدا ہو جائے تو تم سے پہلے لوگوں نے اس قسم کا نظارہ دکھایا تو ہے اور قربانی کی شاندار مثالیں پیش کی ہیں۔پس تمہیں بھی اگر سلسلہ کیلئے اس قسم کی غیرت کا مظاہرہ کرنا پڑے تو تمہیں اس قسم کی غیرت کے اظہار میں کسی قسم کا دریغ نہیں کرنا چاہئے۔چونکہ تم میں ایسے کئی بچے ہوں گے جو گیارہ سال کی عمر رکھتے ہوں گے یا گیارہ سال کے قریب قریب ان کی عمر ہوگی اس لئے ممکن ہے تم کہو ہم اتنی چھوٹی عمر میں دین کیلئے کیا قربانی کر سکتے ہیں اس لئے میں تمہیں ایک گیارہ سالہ بچے کا واقعہ سناتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے جب دعوی نبوت کیا اور لوگوں نے آپ کی باتوں کو نہ مانا تو آپ نے یہ تجویز کی کہ ایک دعوت کی جائے جس میں مکہ کے رؤسا کو اکٹھا کیا جائے اور انہیں اسلام کی تبلیغ کی جائے۔چنانچہ اس کے مطابق ایک دعوت کا انتظام کیا گیا جس میں مکہ کے رؤسا اکٹھے ہوئے مگر جب کھانا کھانے کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے کو بعض باتیں سنانی چاہتا ہوں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں فرصت نہیں اور سب ایک ایک کرکی کے اٹھ گئے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے دوبارہ ایک دعوت کا انتظام کیا اور اب کی دفعہ یہ تجویز فرمایا کہ پہلے ہم انہیں اپنی باتیں سنائیں گے اور بعد میں دعوت کھلا ئیں گے۔چنانچہ رو سا آئے اور بیٹھ رہے۔رسول کریم ﷺ نے اس وقت ایک وعظ کیا جس میں اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے فرمایا خدا تعالی کی طرف سے ایک نعمت آئی ہے اور اس کو پھیلا نا میرا فرض ہے۔کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ہے جو اس انعام کا حصہ دار بنے اور کیا آپ لوگوں میں سے کوئی سعید روح ہے جو میرا ہاتھ بٹائے ؟ ان رؤسا نے جب یہ سنا تو خاموش رہے۔مگر ایک گیارہ سال کا بچہ بھی وہیں بیٹھا تھا اس نے اپنے دائیں بھی دیکھا تو رؤسا کو خاموش پایا، پھر اُس نے اپنے بائیں دیکھا تو اس طرف کے رؤسا کے منہ پر بھی اس نے مہر سکوت دیکھی۔اس نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آواز آئی اور دنیا