زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 171
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 171 جلد دوم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) شرک کریں، ہم یہ نہیں کہتے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنا مذہب چھوڑ دیں۔ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال نہ کریں اور ان کی تحقیر اور تذلیل نہ کریں۔کیا یہی وہ چیز نہیں جو مغرب میں ہمارے مبلغین کے سامنے پیش کی جاتی ہے؟ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کیا جواب دیا ؟ یہی کہ باوجود اس کے کہ گیارہ سال کی لمبی مایوسی کے بعد امید کی جھلک دکھائی دی تھی ، گیارہ سال کی لمبی تاریکی کے بعد روشنی کی ایک شعاع نکلی تھی اور کفار صرف اتنی سی بات پر آپ سے ملنے کیلئے تیار تھے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کہنا اور انہیں برا بھلا کہنا چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس سے ان کی ہتک ہوتی ہے۔اور باوجود اس کے کہ اس تجویز کو پیش کرنے کیلئے انہوں نے ذریعہ بھی وہ اختیار کیا جو ہمارے مبلغوں کے سامنے پیش نہیں ہوتا وہ ایک ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سب سے زیادہ محسن ہے۔محمد ﷺ کی بچپن کی زندگی کے لمحات اس کے ممنونِ احسان ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ایک معتد بہ حصہ اس کے گھر سے کھائی ہوئی روٹیوں سے غذا حاصل کرتا رہا ہے اور محمد اے کا جسم سالہا سال تک اس کے دیئے ہوئے کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانکتا رہا ہے۔پھر کی نبوت کے زمانہ میں باوجود اس کے کہ مذہبی طور پر وہ محمد ﷺ سے متفق نہ ہوا، ہر تکلیف میں وہ آپ کا ساتھ دیتا اور ہر مشکل میں وہ آپ کا ہاتھ بٹاتا، محمد اللہ کے ایسے محسن کے پاس وہ لوگ جاتے اور اسے کہتے ہیں کہ اب تک تو تم نے یہ خطر ناک غلطی کی کہ تم محمد کا ساتھ دیتے رہے اور اپنی قوم کی جڑیں کٹوانے میں تم اس کی مدد کرتے رہے مگر اب ہم اس کی باتوں کی برداشت نہیں کر سکتے۔ہم اس بات کیلئے بالکل تیار ہیں کہ اس کے ساتھ مل جائیں مگر یہ ہم سے نہیں دیکھا جاتا کہ وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دے۔پس اگر وہ اس بات کو منظور کرے کہ ہمارے بتوں کو گالیاں نہ دے تو ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔لیکن اگر وہ نہ مانے اور آپ بھی اس سے اپنا تعلق منقطع نہ کریں تو پھر آپ سے بھی ہمارے عليم تعلقات جاتے رہیں گے۔