زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 161
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 161 جلد دوم احمدی مبلغ ہی باہر بھیجتے ہیں اور وں کو نہیں بھیجتے تو کہنے لگا میں حاضر ہوں میری بیعت لے لیجئے۔مگر مجھے خواب آچکی ہے کہ آپ نے مجھے باہر بھیجا ہے اس لئے مجھے باہر بھیج دیجئے۔میں نے کہا مجھے تو کوئی خواب نہیں آئی۔جس دن مجھے آئی میں بھیج دوں گا۔خواب کے معنے تو صرف اتنے ہی ہیں کہ آپ مجھ سے مشورہ لیں۔سو میں آپ کو مشورہ دے دیتا ہوں کہ آپ چلے جائیں لندن میں یا چلے جائیں ،جرمنی، فرانس یا امریکہ میں۔کہنے لگا نہیں میں تو سلسلہ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا آپ تو اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں مگر میں تو آپ کو لینے کیلئے تیار نہیں۔وہ بیچارہ چھ مہینے تک یہاں آتا رہا اور بار بار خطوں میں بھی لکھتا کہ مجھے خواب آئی ہے مگر میں نے اسے نہ بھیجا۔وہ اپنے دل میں یہی کہتا ہوگا کہ بیعت کر کے بھی کیا فائدہ حاصل کیا۔تو جس قسم کی قربانی ہمارے امریکہ یا انگلینڈ جانے والے مبلغ کرتے ہیں ان طبائع کو مستی کرتے ہوئے جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور جس کے ماتحت ہمارے مبلغوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو دو فیصدی میں شامل ہوں اور جو گھر سے باہر نہیں رہ سکتے بلکہ اپنی دماغی بناوٹ کے نتیجہ میں گھر سے باہر رہنا موت سمجھتے ہیں، اُن کی قربانی حقیقی قربانی نہیں کہلا سکتی۔اور جن دو فیصدی کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی قربانی بھی مخصوص قربانی ہوگی اور محض ان کے نفس کیلئے ہوگی۔پس عام حالات میں امریکہ یا انگلینڈ جانے والا مبلغ کسی چیز کی قربانی نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ بیمار ہو جائے یا سوائے اس کے کہ اس کے جذبات بہت نازک ہوں جو سو میں سے بمشکل دو کے ہوتے ہیں۔جس چیز کی امریکہ یا انگلینڈ جانے والا مبلغ قربانی کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے مذاق کا مقابلہ کر کے اسلامی تعلیم کو ان لوگوں میں قائم کرے۔اگر وہ ایسا کرے تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ قربانی کرتا ہے۔اور اگر وہ نہیں کرتا تو اس کی قربانی کا دعویٰ محض جھوٹ اور محض فریب ہے۔وہ ہمارے ملک کے مکانوں سے بہتر مکانوں میں رہتا ہے، وہ ہمارے ملک کی ریلوں سے بہتر ریلوں میں سفر کرتا ہے، وہ ہمارے ملک کی سوسائٹی سے بہتر سوسائٹی بلکہ دنیوی نقطہ نگاہ سے زیادہ روشن خیال لوگوں میں رہتا ہے،