زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 160
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 160 جلد دوم دوبارہ ان کی طرف سے کبھی درخواست نہیں آئی۔تو سال میں دو تین درخواستیں بعض گریجوایٹس کی طرف سے اس قسم کی آ جاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو پوری طرح قربان کرنے کیلئے تیار ہیں اور اس بات کیلئے بالکل آمادہ ہیں کہ اسلام کیلئے اپنی جان دیدیں بشرطیکہ ان کے گلے پر چھری امریکہ میں پھیری جائے یا انگلینڈ میں۔تو اس قسم کی قربانی کی در حقیقت ان حالات میں کوئی قربانی نہیں بلکہ ان ممالک میں قربانی کا نقطہ نگاہ بالکل اور ہے۔ان ممالک میں قربانی جان کی نہیں بلکہ ان ممالک میں قربانی جذبات کی ہے۔ایک امریکہ یا انگلینڈ میں جانے والا ہمارا مبلغ اپنی روٹی کی قربانی ہر گز نہیں کر رہا، وہ اپنے مال کی قربانی ہرگز نہیں کر رہا، وہ اپنی جان کی قربانی ہرگز نہیں کر رہا، وہ اپنے تمدن کی قربانی ہرگز نہیں کر رہا ، وہ اپنے سوشل تعلقات کی قربانی ہرگز نہیں کر رہا۔وہ جو قربانی کر سکتا ہے اور جو اُس کیلئے مشکل ہے وہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے اثرات اور وہاں کے غالب خیالات پر چھا جانے کی کوشش کرے اور اُس رو کے مقابلہ میں کھڑا ر ہے جو اسلام کے خلاف اس جگہ جاری ہے۔وہ بے شک جنسی برداشت کرے، وہ بے شک تمسخر سنے مگر اسلام کے ان مسائل پر مضبوطی سے قائم رہے جن مسائل پر آج مغرب ہنس رہا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ قربانی کرتا ہے۔اور اگر وہ نہیں کرتا تو اس کی قربانی کے تمام دعوے محض دھوکا، محض فریب اور محض تمسخر ہیں۔وہ احمدیت کیلئے قربانی نہیں کر رہا بلکہ احمدیت کو مغرب کی رو کے مقابلہ میں قربان کر رہا ہے۔میں ایک سال کے اندر اندر ایک ہزار ایسے آدمی پیش کر سکتا ہوں نہ صرف احمدیوں سے بلکہ غیر احمد یوں میں سے جو اس بات کیلئے بالکل تیار ہیں کہ احمدیت کیلئے اپنی جان قربان کر دیں بشرطیکہ ان کے گلے پر چھری امریکہ یا انگلینڈ میں پھیری جائے۔پس اس قربانی کیلئے جس کیلئے غیر بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے بلکہ پیش کرتے رہتے ہیں اپنے آپ کو تیار کرنا کوئی خوبی اور کمال نہیں۔ایک شخص تو پچھلے دنوں چھ مہینے تک متواتر یہاں آتا رہا اور اس نے کئی سفر کئے۔وہ بار بار یہ کہتا کہ مجھے خواب آئی ہے کہ میں اپنے آپ کو خدمت اسلام کیلئے پیش کر دوں۔پہلے تو جب ہم نے اسے کہا کہ ہم