زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 142

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 142 جلد دوم بھائی بند تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کو چھپانے اور آپ کے درجہ کو کم کرنے کی کوشش کی اسی طرح ہمارے ہی وہ بھائی بند ہوں گے بلکہ ہیں جنہوں نے مغربیت کی تعلیم کو ہمارے اندر مختلف پیراؤں میں داخل کرنا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ پیشتر اس کے کہ سانپ اپنا سر اٹھائے اسے کچل دیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان آدمیوں کو کچلا جائے کیونکہ ہمارے دشمن آدمی نہیں بلکہ شیطان ہے۔اور میں کہتا ہوں ہمارا فرض یہ ہے کہ پیشتر اس کے کہ وہ تعلیم بلند ہوا سے کچل دیں اور اس کے اور اسلام کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کر دیں جس کے بعد مغربیت کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہ رہے کہ وہ اجازت لے کر اندر داخل ہو۔بغیر اجازت اندر داخل نہ ہو سکے۔بالکل ممکن ہے ذوالقرنین کے دیوار حائل کرنے سے مراد مغربیت اور مشرقیت میں دیوار حائل کرنا مراد ہو۔اور دو قوموں سے مراد دوستم کے جذبات اور قومی خیالات و افکار ہوں۔اور بالکل ممکن ہے جس دیوار کو ہم نے تیار کرنا ہے اس سے مراد قرآن کریم کی خدمت ہو بلکہ غالب ہے کہ وہی ہو۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے کہ دیوار سے وہ قرآنی دلائل مراد ہیں جو مسیح موعود کو دیے گئے۔بہر حال میں اس موقع پر جماعت کے لوگوں کو عموماً اور نوجوانوں کو خصوصاً بتا دینا چاہتا ہوں کہ مغربی تاثرات کو دیکھ کر مت ڈرو۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے دور بین نگاہ دی ہے انہیں نظر آ رہا ہے کہ مغرب تباہ ہو گیا۔مغرب تباہ ہوتا جا رہا ہے اور مغرب تباہ ہو جائے گا۔کوئی طاقت اس کو تباہ ہونے سے روک نہیں سکتی اور نہ اس کو مٹنے سے باز رکھ سکتی ہے۔لیکن جن کو یورپ کی تباہی نظر نہیں آرہی اور وہ اس سے مرعوب ہو رہے ہیں ان کی حالت اس شخص کی سی ہے جو اُس وقت دریا کی سیر کے لئے جاتا ہے جس وقت اس کا کنارہ گر رہا ہو۔جو سیر کرنا چاہتے تھے وہ سیر کر کے آچکے اب جو اس دریا کی سیر کرنے کے لئے جاتا ہے وہ اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے کنارہ پر