زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 121
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 121 جلد دوم وقتی معاملات کو نظر انداز کر کے اصل حقیقت بیان کیا کریں۔کیونکہ صبح کے واقعات شام کو اور شام کے واقعات صبح کو غلط ثابت ہو جاتے ہیں اور ان پر زور دینا اپنی کمزوری کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔تمہیں چاہئے کہ ہر قسم کے واقعات میں سے اس چیز کو لے لو جو حقیقی ہے اور جو تار کے طور پر سب واقعات میں چلی جاتی ہے۔دیکھو تسبیح کو اگر کسی جگہ سے پکڑ کر لٹکا دیا جائے تو اس کا ایک حصہ اوپر ہو جائے گا اور دوسرا نیچے۔مگر یہ اس کی ظاہری حالت ہوگی دور نہ تا گا ایک ہی ہوگا جو اوپر نیچے یکساں چلا گیا۔یہی حالت قوموں کی ہوتی ہے۔اور اسی کو بدلنا اور اسی کی اصلاح کرنا ہمارا فرض ہے۔ایک بڑے مضبوط آدمی کو نزلہ اور زکام کی شکایت ہو جاتی ہے لیکن ایک کمزور محفوظ رہتا ہے۔اس سے اگر کوئی یہ اندازہ لگائے کہ جس کو زکام نہیں ہوا وہ زیادہ طاقتور ہے اور وہ جسے زکام ہوا وہ کمزور ہے تو یہ غلط ہو گا۔طاقت اور کمزوری کے لئے صحت کے اصل رشتے اور تار کو دیکھنا چاہئے نہ کہ ایک آدھ دن کی بیماری یا صحت کو دیکھنا چاہئے۔اگر آپ لوگ اس نکتہ کو یا درکھیں گے تو نہ خوشی کے وقت اصل حقیقت آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوگی، نہ کوئی غم اور تکلیف آپ کو مایوس کرے گی اور نہ اتار اور چڑھاؤ کے جذبات سے آپ لوگ متاثر ہوں گے۔کیونکہ دیکھ سکیں گے کہ حقیقت وہ ہے جو ان سب واقعات کے بیچ میں سے اسی طرح سے گزرتی ہے جس طرح منکوں میں سے تا گا۔پس جب تم تبلیغ اسلام کا کام کرو تو نتائج کا انحصار درمیانی واقعات پر مت رکھو۔اسی طرح جب تم رپورٹ لکھو تو بھی اس بات کو مد نظر رکھو۔یہ وہ بیک گراؤنڈ ہے جس پر تمہاری جدو جہد کی بنیاد ہونی چاہئے اور یہ اکثر ظاہر کے خلاف ہوا کرتی ہے۔تمہیں اپنے کام میں پس پردہ حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہئے اور انہی پر انحصار کرنا چاہئے۔دوسری بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کام کرنے کا معیار دنیا میں عام طور پر فرق رکھتا ہے۔کئی لوگ تھوڑا کام کرتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں وہ بڑا کام کرتے ہیں۔کئی لوگ بہت کام کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تھوڑا کیا صحیح طریق یہ ہے کہ دوسری قوموں کے کام کا