زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 120

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 120 جلد دوم والے ہوں وہ یہ خیال کریں کہ ان کا یہ رویہ ان کے لئے مضر ہے اور وہ مخالفت شروع کر دیں۔اسی طرح یہ بالکل ممکن ہے مخالفت کرنے والے محسوس کریں کہ ان کا رویہ شریفانہ نہیں ہے اور وہ اسے بدل کر تائید کرنے لگ جائیں۔اس قسم کی باتوں سے مبلغ کو متاثر نہیں ہونا چاہئے۔لیکن حالت یہ ہے کہ ذرا کسی مبلغ کو کوئی خوشکن بات معلوم ہو وہ لکھ دیتا ہے کہ عنقریب یہ سارا ملک فتح ہو جائے گا۔اور ذرا تکلیف پیش آ جائے تو لکھ دیتا ہے کہ اس ملک میں تبلیغ کرنے سے قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اگر مبلغوں کی اس قسم کی خط و کتابت کا چارٹ تیار کیا جائے تو وہ ٹائیفائیڈ کے چارٹ کی طرح کا ہوگا جس میں بخار کا اندازہ لگانے والی لکیر کبھی اوپر ہوتی ہے کبھی یک لخت نیچے چلی جاتی ہے۔ایک مبلغ ایک ہی ملک میں ایک وقت اپنے آپ کو کامیاب سمجھتا ہے لیکن وہی مبلغ اسی ملک میں دوسرے وقت اپنے آپ کو بالکل ناکام قرار دے رہا ہوتا ہے اور اس طرح لکیر یک لخت نیچے چلی جاتی ہے۔وجہ یہ کہ وہ لوگوں کے ظاہری اور وقتی حالات سے متاثر ہو کر جھٹ ایک رائے قائم کر لیتے ہیں حالانکہ ایسے لوگ جو ظاہرہ طور پر تائید کر رہے ہوں ہدایت نہیں پاسکتے۔اور جو بظاہر مخالفت میں لگے ہوئے ہوں ان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہدایت نہیں پاتی سکیں گے۔ان دونوں قسموں کے لوگوں کو دیکھ کر کوئی رائے قائم کرنا صحیح طریق نہیں ہے۔صحیح طریق وہی ہے جس میں وقتی جذبات کو شامل نہ کیا جائے کیونکہ وقتی جذبات بدلتے رہتے ہیں۔ہر انسان کے متعلق جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعض جذبات طبعی ہوتے ہیں اور بعض عارضی۔ماں باپ کو اپنی اولاد سے، بیوی خاوند کو ایک دوسرے سے، بھائی کو بہن سے اور بہن کو بھائی سے ایک دائمی محبت ہوتی ہے اور ایک وقتی جو تفصیلی امور سے تعلق رکھتی ہے۔ایک بیٹے کے متعلق ایک وقت باپ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ نالائق ہے اس سے مجھے کیا تعلق۔لیکن دوسرے وقت وہ کہتا ہے یہ بیٹا میرا سہارا ہے اس کے سوا میرا اور کون ہے۔مبلغین کو چاہئے کہ جب وہ تبلیغی امور کے متعلق رپورٹ لکھیں تو عارضی جذبات اور