زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 82

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 82 جلد اول کی ہمیں کیا پرواہ ہے۔بلکہ یہی مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ بہت بڑا دشمن ہے۔اور اگر بچہ سامنے ہو اور اس کا رعب نہ پڑ سکے تو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ ممکن ہے میرا امتحان ہونے لگا ہے۔پس ایک طرف تو خواہ بچہ ہی مقابلہ پر ہو اس کو حقیر نہ سمجھو بلکہ بہت قوی جانو۔اور دوسری طرف اس کے ساتھ ہی تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہم حق پر ہیں ہمیں کسی کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔گویا نہ تو مد مقابل کو حقیر سمجھنا چاہئے اور نہ مایوس ہونا چاہئے۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ پر اعتماد ہو تو اس کی طرف سے ضرور مدد آتی ہے اور خدا ہی کی مدد ہوتی ہے جس کے ذریعہ انسان دشمن کے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ورنہ کون ہے جو سب دنیا کے علم پڑھ سکتا ہے۔پھر کون ہے جو سب اعتراضات نکال سکتا ہے اور پھر کون ہے جو ان کے جوابات سوچ سکتا ہے۔ہر انسان کا دماغ الگ الگ باتیں نکالتا ہے اس لئے خدا پر ہی اعتما درکھنا چاہئے کہ وہ ہی ہماری مدد کرے گا اور ہم کامیاب ہوں گے۔اور ادھر دشمن کو حقیر نہ سمجھا جائے۔جب یہ دو باتیں ایک وقت میں انسان اپنے اندر پیدا کرے تو وہ کبھی زک نہیں اٹھا سکتا۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ جب ایک دو دفعہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اچھا بولنے لگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کون ہے جو ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ایسا نہیں ہوتا چاہئے دشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھنا چاہئے بلکہ بہت بڑا سمجھنا چاہئے۔ہاں ساتھ ہی یہ بھی اعتقاد ہونا چاہئے کہ اگر دشمن قوی ہے تو میرا مددگار بھی بہت قوی ہے۔اس لئے دشمن میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکے گا۔جب یہ دو باتیں انسان میں پیدا ہو جائیں تو اول تو خدا اس کے دشمن کی زبان پر کوئی اعتراض ہی جاری نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو اس کا جواب بھی سمجھا دے گا۔ایک دفعہ یہاں ایک انگریز پادری آیا۔والٹر (Walter ) اس کا نام تھا۔احمدیت کے متعلق ایک کتاب بھی اس نے لکھی ہے۔اب مر گیا ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن انجیل اور توریت کی تصدیق کرتا ہے مگر ان میں آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اگر چہ میں قرآن میں تصدیق کرنے کے اور معنے کیا کرتا ہوں اور میرے نزدیک جب ایسے موقع پر لام صلہ