زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 435

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 435 جلد اول جائے۔حالانکہ اس دوست نے اپنی چٹھی میں ساری شکایت ناظر اعلیٰ کے متعلق ہی کی تھی اور سمجھا تھا کہ ناظر اعلیٰ نے اس پر بڑا ظلم کیا ہے۔چونکہ ناظر اعلیٰ خود اس عہدہ پر مقرر نہ کر سکتا تھا اس کے لئے مجھ سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت تھی اور ناظر اعلیٰ نے میرے پاس سفارش کی۔یہاں تو اس قسم کی حرکت کا انسداد کیا جاسکتا ہے کیونکہ تمام محکموں پر خلیفہ کی نگرانی ہے لیکن دوسرے ممالک میں اگر کوئی ایسی بات پیدا ہو تو اس کا انسداد مشکل ہوتا ہے۔اس بارے میں میں مولوی محمد صادق صاحب کو اس بات کی خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ ان جزائر کی تبلیغ کا چارج پورے طور پر مولوی رحمت علی صاحب کے سپرد کیا گیا ہے اور وہ کلی طور پر ان کے ماتحت ہیں۔ہمارے اندر جب تک ماتحت کام کرنے کا پورا پورا مادہ نہ ہو اُس وقت تک ہمارے کسی کام میں برکت نہیں ہو سکتی۔مولوی محمد صادق صاحب کا فرض ہے کہ مولوی رحمت علی صاحب انہیں جو حکم دیں اس کی پوری پوری تعمیل کریں۔وہ جہاں بیٹھنے کے لئے کہیں بیٹھیں۔جہاں اٹھنے کے لئے کہیں اٹھیں۔جہاں چلنے کے لئے کہیں چلیں۔جہاں بولنے کے لئے کہیں بولیں۔جہاں خموش رہنے کے لئے کہیں خموش رہیں۔اگر مولوی رحمت علی صاحب ان سے کوئی غیر معروف معاملہ کریں گے تو اپنا ثواب کھو دیں گے۔اور اس سے بھی زیادہ بختی کریں گے تو خدا تعالی کے عذاب کے نیچے آئیں گے۔مگر بہر حال مولوی محمد صادق صاحب کا فرض ہے کہ جو بات سلسلہ کے لئے نقصان رساں اور عقل کے خلاف نہ ہو اس میں ان کی پوری پوری اطاعت کریں۔ایک صوفی کہتے ہیں ایک دفعہ میرے گھوڑے نے میری اطاعت نہ کی تو میں نے سمجھا میں نے خدا تعالیٰ کی کوئی نافرمانی کی ہے۔یہ بات مولوی محمد صادق صاحب کو اچھی طرح یا د رکھنی چاہئے۔اگر وہ پوری طرح اطاعت نہ کریں گے تو جہاں جائیں گے وہاں کے لوگوں پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہو گا۔انہیں پورے طور پر اطاعت کرنی چاہئے اور جیسا کہ میں نے کل کہا ہے مولوی رحمت علی صاحب کو اس طرح سلوک کرنا