زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 425
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 425 جلد اول دیکھا تو وہ سارے کے سارے یا تو بوڑھے تھے یا بچے ، جنگ کے قابل نہ تھے۔تا ہم آپ نے کہا آج شام میں مسلمانوں کو امداد کی ضرورت ہے اور انہوں نے آدمیوں کا مطالبہ کیا ہے اب بتاؤ میں کیا کروں؟ لوگوں نے کہا اب تو بوڑھے اور بچے ہی رہ گئے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا خواہ کچھ ہو مدد ضرور دینی ہے۔اس پر آپ نے ایک صحابی کو بلا کر کہا میں تمہیں شام میں اسلامی لشکر کی امداد کے لئے بھیجتا ہوں تم تیاری کرو۔اور ابو عبیدہ کی طرف خط لکھ دیا کہ میں امداد کے لئے ایک ہزار آدمی بھیج رہا ہوں اور وہ فلاں شخص ہے۔جب لشکر کو یہ اطلاع پہنچی تو مسلمان اس صحابی کے استقبال کے لئے آئے اور ایسی خوشی کا اظہار کیا کہ گویا ان کے پاس ایک ہزار آدمی پہنچ گیا ہے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب خدا تعالی مددگار ہوتا ہے تو ایک آدمی سے ہزار آدمیوں کا کام لے لیتا ہے اسی وجہ سے وہ سخت خطرہ کے موقع پر صرف ایک آدمی کو دیکھ کر گھبرائے نہیں۔نہ انہوں نے یہ سمجھا کہ ان سے ہنسی اور مذاق کیا گیا ہے۔بلکہ دس لاکھ عیسائی لشکر کے مقابلہ میں مسلمانوں نے صرف دس ہزار ہوتے ہوئے بڑی مسرت سے ایک آدمی کا استقبال کیا۔اسے اپنے لئے بہت بڑی امداد سمجھا۔اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے حتی کہ اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ عیسائیوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے اپنے جاسوس بھیجے کہ معلوم کرو کس بات پر اتنی خوشی منائی جارہی ہے اور جب جاسوسوں نے جا کر بتایا کہ ایک آدمی کے آنے پر اتنی خوشی کی جارہی ہے تو عیسائیوں نے کہا یہ عجیب آدمی ہیں۔غرض جب خدا تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو تو دنیا کے زبر دست قلعوں کو بھی فتح کیا جا سکتا ہے۔اس وقت عیسائیت چین اور جاپان کی طرف سے ایشیا میں گھسنا چاہتی ہے۔چنانچہ حال ہی میں خبر شائع ہوئی ہے کہ چین کا پریذیڈنٹ عیسائی ہو گیا ہے۔اس کے عیسائی ہونے کا اثر دوسروں پر بھی پڑے گا۔جس طرح انگلستان عیسائیت کے مقابلہ کے لئے ایک مرکز ہے اسی طرح چین اور جاپان کی حفاظت کے لئے جاوا، سماٹرا اور بورنیو مرکز بن سکتے ہیں۔ان جزیروں میں مسلمانوں کی کافی آبادی ہے۔اگر وہاں اسلام کی