زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 424
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 424 جلد اول مبلغین سماٹرا و جا و مکرم مولوی رحمت علی صاحب اور مکرم مولوی محمد صادق صاحب کو نصائح 5 نومبر 1930ء بعد نماز عصر طلباء مدرسہ احمدیہ و جامعہ احمدیہ نے مکرم مولوی رحمت علی | صاحب مولوی فاضل اور مولوی محمد صادق صاحب مولوی فاضل مبلغین سماٹرا و جاوا کو دعوت چائے دی۔جس میں حضرت خلیفۃ المسح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر کی :۔,, جیسا کہ مولوی رحمت علی صاحب نے بیان کیا ہے وہ سماٹرا سے جب واپس آئے تو اپنے ساتھ وہاں کے کچھ دوستوں کو لائے تھے۔اور اب پھر وہاں جاتے ہوئے بھی اپنے ساتھ ایک دوست کو لے جارہے ہیں۔وہ پہلے مبلغ ہیں جن کے علاقہ کو ایسی اہمیت دی گئی ہے کہ نہایت ہی قریب کے عرصہ میں ایک مبلغ کی بجائے دو بھیجے جارہے ہیں۔جو کام ان کے سامنے ہے میں جہاں تک سمجھتا ہوں اس کی اہمیت خود مولوی رحمت علی صاحب اور اس علاقہ کے دوسرے لوگ بھی نہیں سمجھتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب ابو عبیدہ کو شام میں جنگ کرنے کے لئے بھیجا تو انہیں ایک ایسا موقع پیش آیا کہ عیسائی اپنی ساری طاقت کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ پر آگئے۔اُس وقت ابو عبیدہ نے گھبرا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے امداد کی درخواست کی۔اُس وقت اتفاق ایسا ہوا کہ ایرانی لشکر کے ساتھ بھی مسلمانوں کا مقابلہ ہورہا تھا اس لئے جنگ کرنے کے قابل تمام کے تمام مرد، میدان جنگ میں جاچکے تھے اور مدینہ خالی پڑا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کو جمع کیا اور جب آ کر