زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 383

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 383 جلد اول گئے مگر میں انہیں دلچسپی سے نہ پڑھ سکا۔کیونکہ ان کی انگریزی جدا گانہ طرز کی ہوتی ہے جو شاق گزرتی ہے۔ان کا طرز بیان اور ہوتا ہے اور مجھے اور طرز کی عادت ہے۔چونکہ کالجوں میں ایک خاص رنگ ہوتا ہے اس لئے اس کے خلاف جو کچھ ہوا سے پسند نہیں کیا جاتا۔کارلائل کے متعلق لکھا ہے اس نے رسول کریم ﷺ کی بہت تعریف کی۔لیکن جب اس نے قرآن پڑھا تو کہہ دیا میں اپنی تعریف واپس لیتا ہوں کیونکہ قرآن میں کوئی ترتیب نہیں بکھری ہوئی باتیں ہیں۔دراصل خدا تعالیٰ کی کتاب فطرتِ انسانی کے مطابق ہوتی ہے۔جیسے جیسے جذبات ابھرتے اور جو راہ اختیار کرتے ہیں اسے مدنظر رکھتے ہوئے ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔چونکہ عام لوگوں سے یہ ترتیب جو فطرتی ہے دب گئی ہے اس لئے انہیں گراں گزرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی اصل فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔جو شخص اصل فطرت ابھار کر انہیں پڑھے اسے عین فطرت کے مطابق ہر ایک بات نظر آئے گی۔اس وقت میں اسی پر تقریر ختم کرتا ہوں کیونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے اور امید ہے کہ آپ لوگوں کو کچھ اور سنانے کا موقع ملے گا۔آپ لوگ چونکہ آئے ہیں اس لئے کوشش کروں گا اور موقع بھی دوں۔اس وقت میں اسی بات پر ختم کرتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بات جو آپ سے کہی گئی ہے معمولی ہے دوسرے موقع پر کوئی زیادہ بڑی بات کہی جائے گی۔اگر آپ لوگ اسی پر عمل کریں تو یہی بہت بڑی ہے۔“ (الفضل 26 نومبر 1929ء)