زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 363
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 363 جلد اول لیسس میں خواہ کتنے بھی نمبر حاصل کر لے کسی کو اس کی کیا قدر ہو سکتی ہے۔لیکن اگر وہ کوئی تھیسس لکھ دے تو تمام دنیا اس کے لئے ہاتھ پھیلا دے گی اور طالب علم کی آئندہ زندگی قابل قدر ہو جائے گی۔ہمارے ملک میں ابھی اس کے لئے بہت میدان ہے۔یورپ میں کثرت مقابلہ کی وجہ سے یہ بات بہت مشکل ہو گئی ہے مگر ہمارے ملک میں ابھی پچاس سال تک اس ذریعہ سے ہزاروں کے لئے شہرت حاصل کرنے کا امکان ہے۔بے شک ہمارے راستہ میں ابتدائی مشکلات بھی ہیں۔یورپ میں چونکہ یہ طریق عام ہے اس لئے لکھنے والوں کے لئے دائرہ تنگ ہے اور وہ اس محدود دائرہ سے بہت سے مفید حوالے نکال لیتے ہیں۔نیز آسانی سے یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ کس طرح نئے نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔جیسے زمین پر رینگنے والا جانور پاؤں پر چلنے والے کی طرح جہات نہیں سمجھ سکتا۔کیونکہ جوں جوں انسان یا حیوان کوئی خاص پہلو اختیار کرتا چلا جاتا ہے اسے اس سے مناسبت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لئے اہل یورپ کے اندر تھیسس لکھنے کے لئے مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔مگر ہمارے ہاں یہ مشکلات ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ تھیسس کس طرح لکھا جائے۔مثلاً ایک مثال ہے میں نے اخبار میں دیکھا ہے کہ ایک شخص نے ایک ناول لکھنے کی مشین ایجاد کی۔بظاہر یہ ناممکن ہے مگر میں نے تجربہ کیا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ہمارے ملک میں کہانیاں اسی طرز کی ہوتی ہیں کہ ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں اولاد نہیں تھی۔اور انگریزی میں قصے اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ایک مرد اور عورت میں محبت تھی مگر ان کی شادی نہیں ہو سکتی تھی۔اب غور کرو ہر کہانی کی ایک ابتدا ہوتی ہے۔پھر اس کے درمیانی واقعات ہوتے ہیں اور پھر انجام ہوتا ہے۔ہر کہانی کا ڈھانچہ یہی ہے۔باقی گوشت پوست اس کے لئے ہر عقل مند شخص خود بنا لیتا ہے اور معلوم کر سکتا ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرے جس سے اس میں دلچسپی پیدا ہو سکے۔اس شخص نے کئی ہزار سال کے قصے کہانیوں کی تحقیقات کر کے لکھا ہے کہ ان باتوں سے قصے شروع ہوتے ہیں اور ان کی ایک فلم تیار کر کے اسے مشین پر چڑھا دیا ہے۔اب آگے قصے میں یہ ہوتا ہے کہ وہ کامیاب ہوا یا نا کام۔