زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 362
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 362 جلد اول ہی ہوں وہ نیم مذہبی بھی ہو سکتے ہیں۔تاریخی اور اخلاقی بھی لکھے جاسکتے ہیں۔فلسفہ پر بھی لکھے جا سکتے ہیں۔مثلاً اسی پر تھیسس لکھا جا سکتا ہے کہ نئے اور پرانے فلسفہ میں کیا فرق ہے۔اس کے لئے پہلے پرانے فلسفہ کی کتابیں پڑھنی پڑیں گی پھر نئے فلسفہ کی۔پھر ان میں اشتراک دیکھا جائے گا۔پھر یہ معلوم کرنا پڑے گا کہ نئے اور پرانے فلسفہ میں اختلاف کیا ہے۔پھر یہ بحث کرنی پڑے گی کس کا عندیہ صحیح ہے۔یا دونوں صحیح ہیں یا دونوں ہی غلط ہیں۔غرضیکہ سب پہلو اختیار کئے جاسکتے ہیں۔یہ سب مختلف نقطہ ہائے نگاہ ہیں۔اس قسم کے مضامین دنیا کی نظروں میں بہت مقبول ہو سکتے ہیں۔یہ نہ صرف ہماری جماعت کے لئے ہی مفید ہوں گے بلکہ دنیا بھی انہیں علمی تحقیقات سمجھ کر ان کی قدر کرے گی۔ہماری جماعت کے نزدیک چونکہ علمی مسائل وفات مسیح یا صداقت مسیح موعود یا همچو قسم دیگر مسائل ہی ہیں اس لئے ممکن ہے ہماری جماعت ان کی اتنی قدر نہ بھی کرے۔لیکن یہ چیزیں ہماری جماعت کا اعزاز دنیا میں بہت بڑھا دیں گی اور دنیا میں لاکھوں انسان ان کی قدرتی کریں گے۔اور وہ پھر ترجمہ ہوکر سلسلہ وار یو یو آف ریلیجنز میں شائع ہو کر یورپ میں بھی ہماری جماعت کی شہرت کو دوبالا کرنے والی ثابت ہوں گی اور جامعہ احمدیہ کو بھی ان سے تقویت پہنچے گی۔میں سمجھتا ہوں درد صاحب کے اس خیال کا موجب لندن کا وہ جلسہ تھا جس میں تقریر کرتے ہوئے سر ڈینسن راس نے کہا تھا کہ ایشیا میں بھی بہت سے لوگ لائق ہوتے ہیں مگر وہ تحقیقات سے نئی اور باریک باتیں معلوم کرنے کی کوشش کر کے علم میں زیادتی نہیں کرتے۔اور ان کا یہ اعتراض صحیح تھا۔ایشیا میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آتا۔ایک ہی شخص نے تھیسس لکھا ہے اس کا نام طہ حسین ہے۔اور اس نے فلسفہ اخلاق پر تھیسس لکھا ہے۔اگر چہ اس نے بہت جگہ غلطی بھی کی ہے مگر چونکہ نئی طرز میں لکھا ہے اس لئے وہ اپنے ملک میں پروفیسر بنا دیا گیا اور یورپ نے بھی اس کی بہت قدر کی۔بے شک وہ لائق ہے مگر اتنا نہیں کہ ساری دنیا میں مشہور ہو سکے۔لیکن محض فلسفہ اخلاق پر تھیسس لکھنے کے باعث وہ ساری دنیا میں مشہور ہو گیا۔تو یہ نہایت مفید چیز ہے۔کوئی طالب علم امتحان