زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 345

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 345 جلد اول تک پڑوس میں رہنے کے باوجود بھی تعارف پیدا نہ کرے تو وہ ایک دوسرے کو Mysterious نہیں سمجھیں گے اور اسے قومی کیریکٹر سے تعبیر کریں گے۔لیکن اگر ایک ہندوستانی اپنے ہمسایہ سے تعلق نہ رکھے تو یہ اس کے قومی کیریکٹر پر محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے ایک Mysterious آدمی سمجھا جائے گا۔پس اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات جو لوگ ملاقات کے لئے آتے ہیں وہ صحیح دروازہ پر نہ پہنچنے کے باعث پڑوسیوں سے راستہ دریافت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اور وہ پڑوسی چونکہ انہیں Mysterious سمجھتے ہیں اس لئے اگر چہ وہ زبان سے کوئی بات نہ بھی کہیں پھر بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں یا اپنے لہجہ سے ہی ملنے والے کے دل میں شکوک پیدا کر دیتے ہیں اور ملنے والا یہ سمجھتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے جسے ہمسایہ چھپاتا ہے۔اور بہت سے لوگ مشن میں آنے سے پہلے ہی متعصب ہو جاتے ہیں۔سید محمود اللہ شاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ ایک میم سے مشن کے مکان کا راستہ پوچھا وہ کہنے لگی کہ کیا تم وہاں جانا چاہتے ہو؟ اور میری طرف سے ہاں پر اس نے کہا You seem to be a gentleman اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں کوئی gentleman نہیں جاتا۔یہ اس نے محض اس وجہ سے کہا کہ وہاں غیر قوم کے لوگ رہتے ہیں۔ہمیں معلوم نہیں وہ کون ہیں اور کیسے ہیں۔تو اس وجہ سے میں نے مبلغین کو ہدایت کی تھی کہ ان کا پہلا فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمسایوں سے تعلقات پیدا کریں۔وہ اگر نہ بھی ملیں تو یہ ضرور کوشش کرتے رہیں۔اور اس کوشش سے بھی اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ اگر وہ ملاقات نہ بھی کریں گے تو کم از کم Mysterious بھی نہیں کہیں گے۔بلکہ کہیں گے کہ اس نے تو call کیا تھا مگر ہم خود ہی نہیں مل سکے۔اور اس طرح وہ ملاقات کے لئے آنے والوں پر برا اثر نہیں ڈال سکیں گے۔بلکہ اگر شریف ہوں گے تو اخلاق کی تعریف کریں گے۔اور اس طرح آنے والے کے دل سے تعصب نکل جائے گا اور مبلغ کے کام میں آسانی ہو جائے گی۔