زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 339
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 339 جلد اول دبائے ہی رکھے تو پھر کام لینا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن ظاہر کرنے کے بعد کام لینے والے کے دل میں جو بھی خدا تعالیٰ ڈالے وہ اس کے مطابق کام لے سکتا ہے۔پس دوسروں کو اپنے جذبات دبانے نہیں چاہئیں کیونکہ جذبات کا دبانا بعض اوقات ٹھوکر کا موجب بھی ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مخلص خادم تھے۔وہ حضور کی مجالس میں نہیں آتے تھے۔اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ حضور کے رعب کے باعث جانے کی جرات نہیں ہوتی۔آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے۔حضرت ابو بکر اور دیگرا کا بر صحابہ رسول کریم ﷺ کی مجالس میں آتے تھے۔ہماری مجلس میں کسی کا نہ آنا سخت غلطی ہے۔اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ جذبات کو دبانا نہیں چاہئے۔پیر مرید کا تعلق دراصل جذبات کا ہی تعلق ہوتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ب ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله 4 یہ بھی دراصل جذبات ہے کا ہی اظہار ہے۔یہاں اتباع فرمایا۔جس کے معنی ہیں پیچھے چلنا۔یہاں حکم ماننا یا اطاعت کرنا نہیں فرمایا۔بلکہ یہ فرمایا کہ جیسے بچہ اپنی ماں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اسی طرح تم رسول کے پیچھے پیچھے اگر چلو گے تو خدا تعالیٰ تم سے اس کے نتیجہ میں محبت کرے گا۔اور پیچھے چلنا محض جذبات کا تعلق ہے۔اور خلیفہ بھی رسول کا ظل ہوتا ہے اس لئے وہ بھی جذبات سے ہی تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ایڈریس کے متعلق جو اس وقت پیش کیا گیا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ اس میں عام ایڈریسوں سے جو ایسے موقعوں پر پیش کئے جاتے ہیں ایک قدم آگے اٹھایا گیا ہے۔یعنی اس میں محبت آمیز جرح بھی تھی۔میرے نزدیک اپنے خیالات کو اس حد تک بیان کرنا کہ محبت اور ادب و احترام کا پہلو مد نظر رہے ایک خوشنما پہلو ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ آپ آئے اور بہت خوشی ہوئی اس میں کوئی زیادہ لذت نہیں ہوتی بلکہ اس میں تکلف پایا جاتا ہے۔پس ایڈریس کے طریق بیان پر بھی میں